معاہدہ: این جی اوز کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں کئی سیاسی جماعتوں اور حقوق نسواں کے لئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کے درمیان بلدیاتی انتخابات میں عورتوں کی شرکت پر پابندی کے فیصلے کے مسلہ پر ٹھن گئی ہے۔ ان سیاسی جماعتوں نے گزشتہ دنوں مشترکہ اجلاس میں عورتوں کو ان انتخابات سے مقامی روایات کو وجہ بتاتے ہوئے دور رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ کئی غیرسرکاری تنظیموں نے اس فیصلے کے خلاف بھرپور مہم چلانے کی دھمکی دی ہے۔ اتوار کے روز غیرسرکاری تنظیموں کے مقامی کارکنوں نے تیمرگرہ میں ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں سیاسی جماعتوں کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے بھر پور مزاحمت کا اعلان کیا تھا۔ پیر کے روز پشاور میں مختلف غیرسرکاری تنظیموں نے اس سیاسی جماعتوں کے فیصلے کے خلاف ایک احتجاجی کیمپ منعقد کیا۔ پشاور پریس کلب کے سامنے اس ایک روزہ کیمپ کا مقصد عورتوں کو ضلع دیر میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے فیصلے کی جانب عوام کی توجہ مبذول کرانا ہے۔ عورت فاونڈیشن کی رخشندہ ناز کا کہنا تھا کہ انہوں نے کیمپ میں ان تمام جماعتوں کے رہنماؤں کو مدعو کیا تھا جن کی مقامی شاخوں نے دیر میں یہ فیصلہ کیا تھا تاکہ وہ اس کے خلاف واضع بیان دیں سکیں۔ لیکن انہوں نے افسوس سے کہا کہ بہت سی جماعتیں کیمپ میں نہیں آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عورتوں کو انتخاب میں حصہ لینے اور ووٹ ڈالنے سے باز رکھنے کے فیصلے کے سلسلے میں ان جماعتوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہیں۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کی خواتین نمائندہ کیمپ میں موجود تھیں۔ اے این پی نے دیر کے عہدیداروں سے ایک خط کے ذریعے جواب طلب کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ق) کی رکن سرحد اسمبلی نگہت اورکزئی نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسلے کو وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھائیں گی اور جو بھی ممکن ہوسکا دیر کی عورتوں کے لئے کریں گی۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین، پیپلز پارٹی شیرپاؤ، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، جعمیت علما اسلام، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے دیر میں مقامی عہدیداروں نے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ علاقے سے بلدیاتی انتخابات میں عورتوں کی مخصوص نشتوں پر ان کی جانب سے کوئی امیدوار کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے گا۔ ان کے بقول ایسا کرنے والے کی مخالفت کی جائے گی اور اسے ضلع دیر کا دشمن تصور کیا جائے گا۔ اس علاقے میں ماضی میں بھی عورتوں کو ناصرف انتخاب لڑنے بلکہ ووٹ ڈالنے کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||