BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 April, 2004, 19:35 GMT 00:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دفعہ 144 میں ایک گھنٹہ کی نرمی

News image
صوبائی وزراء کے دفاتر اکثر ویران پڑے رہتے ہیں
ضلعی ناظم کوئٹہ نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس وقت ایک گھنٹے کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس کو اٹھا لی جب ضلعی حکومت کے اراکین پر مشتمل جلوس کو پولیس نے روکنے کی کوشش کی۔

یہ جلوس صوبائی حکومت کے خلاف شکایت پر مبنی یادداشت گورنر بلوچستان کو پیش کرنے جار رہا تھا۔

کوئٹہ میں پانی اور نکاسی آب کے لیے آٹھ ارب روپے کے منصوبے پر ضلعی اور صوبائی حکومت کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

جمعرات کو ضلعی حکومت نے صوبائی حکومت کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور اپنے مطالبے کی یادداشت گورنر بلوچستان کو پیش کی ہے۔

ضلعی حکومت کے سربراہ رحیم کاکڑ کی قیادت میں گور نر ہاؤس کے سامنے جب مختلف یونین کونسلوں کے ناظمین اور اراکین اکٹھے ہوئے تو پولیس نے انہیں دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت مظاہرے کی اجازت نہیں دی جس پر ضلعی ناظم اور پولیس کے افسروں کے مابین تلخ کلامی بھی ہوئی۔ جس کے بعد رحیم کاکٹر نے اپنے اختیارات کا استعمال کیا۔

واضح رہے کہ کوئٹہ میں اس وقت دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی کرنے پر اساتذہ اور ادویہ ساز فیکٹری کے کئی ملازمین گرفتار ہیں۔

ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ سے اس بابت جب رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اساتذہ اور مزدوروں کے احتجاج سے ان کا احتجاج مختلف ہے کیونکہ ناظم آئین اور قانون کے حوالے سے اپنے اختیارات اور حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں: ’ ہمارے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں اور نہ ہی اس احتجاج کے پیچھے کوئی ایسے عوامل ہیں۔ بلکہ پانی اور نکاسئی آب کا محکمہ واسا آئین کے تحت ضلعی حکومت کے ماتحت ہے لیکن صوبائی حکومت نے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے سب کچھ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔‘

انہوں نے کہا ہے کہ اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی کے پاس ہے کیا صرف کچھ ٹھیکیدار ہیں جو انھیں ٹھیکے لینے کے لیے مختلف طریقے بتاتے ہیں حالانکہ ان کا کام قانون سازی ہے۔ جبکہ ضلعی حکومت کے پاس ایک مکمل نظام ہے اور ٹیم ہے جو پانی کی فراہمی اور دیگر کاموں کی ذمہ دار ہے۔

اس بارے میں صوبائی حکومت سےوابستہ وزراء سے رابطے کی بھر پور کو ششیں کیں لیکن کوئی بھی دستیاب نہیں تھا۔ اکثر اسلام آباد اور سندھ کے دورے پر گئے ہوئے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن کے اعلان میں تاخیر کی وجہ سے صوبہ بلوچستان اس وقت مالی بحران کا شکار ہے۔ ایسی صورت میں آٹھ ارب روپے کا منصوبہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ لہذا ضلعی اور صوبائی حکومت کے منتخب اراکین اپنے اپنے اختیارات استعمال کر رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد