کراچی: 500 امیدواروں کا اغوا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں حصے لینے والی ایک جماعت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پانچ سو سے زائد امیدوارں کو اغوا کیا گیا ہے یا وہ اپنے گھروں سے گم ہیں۔ پولیس ان کا مقدمہ بھی درج نہیں کر رہی۔ انسان دوست پینل کے نام سے انتخابات لڑنے والی جماعت سنی تحریک کے رہنما افتخار بھٹی، مولانا عبدالکریم اور شہزاد منیر نے پریس کانفرنس میں بتایاکہ لانڈھی، کورنگی ٹاؤن، گلبرگ، نارتھ ناظم آبادٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، لیاقت آْباد اور صدر کے مختلف علاقوں کے امیدواروں کو کفن بھیجوائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صوبہ سندھ بلخصوص کراچی کو دہشت گردوں کے حوالے کیا جارہا ہے۔ سنی تحریک کے رہنما نے کہا ہے کہ نام نہاد مذہبی و جہادی گروپوں بشمول کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے لوگوں کو پناہ دے رکھی ہے اور ان ہی کو اب الیکشن میں کھڑا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے پہلے سےطے شدہ پالیسی کے تحت متحدہ کو سٹی ناظم کی سیٹ دینے کا تہیہ کر رکھا ہے تو کراچی میں انتخابات کا ڈھونگ رچانے کے بجائے متحدہ کا سٹی ناظم بنایا جائے۔ تاکہ انتخابات میں بے گناہ جانیں ضائع اور کئی گھرانے تباہ ہونے سے محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صدر، وزیراعظم اور چیف الیکشن کمشنر سمیت تمام بالاحکام کو ٹیلیگرام کیے ہیں اور ان کو صورتحال سے آگاہ کیا ہے لیکن ہم تمام مشکلات کے باوجود بھی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرینگے۔ جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے الیکشن میں ریاستی مشینری کے استعمال، ایم این اے مولانا اسداللہ بھٹو کے گھر پر حملے اور مبینہ دہشت گرد کارروایوں کے خلاف یوم سیاہ منایاگیا۔ دوسری جانب سندھ کے وزیراعلیٰ نے خبردار کیا ہے کہ کراچی میں امن امان کے حوالے سے پروپیگنڈہ کرنے والوں سے سختی سے نپٹا جائیگا۔ ایک تقریب میں بات چیت کرتے انہوں نے کہا کہ کراچی میں انتخابات کا پہلا مرحلہ خیریت سے مکمل ہوگیا ہے۔جو لو گ یہ کہے رہے تھے کے انتخابات خونخوار ہونگے وہ ناکام ہو گئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||