کراچی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں حکومت مخالف اور حکمران اتحاد کی جماعتوں نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرلی ہے۔ شہری حکومت کے لیے مسلم لیگ کیو ، ایم کیو ایم ، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام نے اتحاد کیا ہے جبکہ جماعت اسلامی ، ایم ایم اے کی دیگر جماعتیں ، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر متفق ہوگئی ہیں۔ سٹی ناظم کے امیدوار نعمت اللہ خان نے آئندہ مدت کے لیے اپنے ترقیاتی پروگرام کا اعلان کردیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات ہر صورت میں پاک فوج کی نگرانی میں ہی منعقد کیے جائیں۔ ’ان انتخابات میں فوج کی صرف موجودگی ہی نہیں ہونی چاہیے اس کا اہم کردار ہونا چاہیے۔ ایسا نے ہو جیسا ملیر میں ضمنی انتخابات میں ہوا تھا۔‘ واضح رہے کہ گذشتہ سال ملیر میں تین سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں تشدد کی کارروائیوں میں آٹھ افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ ان انتخابات میں فوج کا سٹینڈ بائی رکھا گیا تھا۔ سابقہ سٹی ناظم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جس طرح خوف ہراس کی فضا پیدا کی جارہی ہے صرف فوج کی نگرانی میں انتخابات ہونے سے اس کا ازالہ ہوسکے گا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں امیدوار ہوں اور مطالبہ کر رہا ہوں اس پر الیکشن کمیشن کو غور کرنا چاہیے۔ نعمت اللہ خان نے بتایا کے ان کی پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت علما پاکستان سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوگئی ہے۔ وہ الخدمت گروپ کے نام سے ہی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق کراچی کے بلدیاتی انتخابات تاریخی ہونگے۔ ’ہم شہر کو بوریوں میں بند لاشوں، بھتہ خوری ، دہشتگردی اور ہڑتالوں سے پاک کرینگے۔‘ الخدمت پینل کے امیدوار ایڈووکیٹ نعمت للہ خان پاکستان میں ناظم کے پہلے امیدوار ہیں جنہوں نے اپنے پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ان کی شہری حکومت بنی تو پورے شہر میں سرویلینس نظام نصب کرے گی اور امن دشمن عناصر سے شہر کو پاک کرنے کے لیے ٹھوس انتظامات کیے جائینگے۔ ان کے مطابق خراب امن امان کی بنیادی وجوہات میں ایک وجہ بیروزگار ی بھی ہے جس کے خاتمے کے لیے دس ہزار ملازمتوں کے مواقع فوری پیدا کیے جائینگے۔ نعمت اللہ خان نے اعلان کیا کہ ان کی شہری حکومت میں تمام شہری خدمات کے اداروں کی شکایات آن لائن درج کروائی جاسکیں گی۔ بیرون شہر سے آنے والی تمام بسوں کی اسٹینڈ شہر سے باہر منتقل کیے جائینگے۔ نعمت اللہ خان کان کہنا تھا کے آئندہ پانچ سالوں میں شہر میں اڑتالیس فلائی اوور اور زیر زمین گذرگاہوں کے قیام کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ جبکہ ہرٹاؤن کی سطح پر اٹھارہ ہسپتالوں کا قیام مکمل کیا جائیگا۔ شہر کے چار ہزار سرکاری پرائمری اسکولوں کو ماڈل اسکولز میں تبدیل کیا جائےگا۔ دوسری جانب سندھ کی اتحادی حکومت نے بھی بلدیاتی انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرلی ہے۔ مذاکراتی ٹیم کے سربراہ صوبائی وزیر عرفان اللہ مروت نے بتایا کہ حکمران جماعت مسلم لیگ کیو اور متحدہ قومی مومینٹ ، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق فارمولے کے مطابق ایک سو اٹھتر یونین کاونسلز میں سے پچانوے میں میں ایم کیو ایم سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوگی ہے۔ انچاس یونین کاؤنسل میں ناظم ایک گروپ کا ہوگا اور اس کے ساتھ پانچ کونسلرز دوسرے گروپ کہ ہونگے۔ جبکہ چھالیس یونین کاؤنسلز میں نائب ناظم ایک گروپ کا ہوگا اور اس کے ساتھ چار کونسلرز دوسرے گروپ کے ہونگے جبکہ بقیہ کونسل میں تین یا چار کونسلرز ایک گروپ سے لیے جائینگے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||