BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 November, 2004, 13:08 GMT 18:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات پر خرچہ، ڈیڑھ ارب روپیہ

انتخابات
انتخابات کے متعلق الیکشن کمیشن کی رپورٹ
پاکستان میں سن دوہزار دو میں ہونے والے عام انتخابات پر ایک ارب پینتالیس لاکھ روپوں سے زیادہ کے اخراجات ہوئے جس میں سے ساڑھے چھتیس کروڑ روپے الیکشن میں کھانے پینے کے الاؤنس، جبکہ ساڑھے انیس کروڑ روپے فوج کو امن و امان قائم رکھنے اور دیگر انتظامات کرنے کے مد میں ادا کیے گئے۔

یہ بات الیکشن کمیشن نے حال ہی میں شائع کردہ اپنی حتمی رپورٹ میں بتائی ہے۔ دو جلدوں پر مشتمل ساڑھے سات سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے ناموں کے علاوہ تمام انتظامات کا مفصل جائزہ پیش کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انتخابات پر مجموعی طور پر ایک ارب پینتالیس کروڑ انتالیس لاکھ انتالیس ہزار سات سو تہتر روپے خرچ کیے گئے جو کہ اس سے قبل یعنی سن انیس سو ستانوے میں ہونے والے انتخابات پر آنے والے اخراجات سے چالیس فیصد زیادہ ہیں۔

کمیشن کی اس رپورٹ میں زیادہ اخراجات کی وجہ سینیٹ، قومی و چاروں صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں اور ووٹرز کی تعداد میں اضافے کے وجہ سے پولنگ سٹیشنز اور پولنگ بوتھ کی تعداد زیادہ ہونا بتائی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹیں بنانے کے لیے’نادرا‘ کو انیس کروڑ بیاسی لاکھ روپے ادا کیے گئے۔

News image
چیف الیکشن کمشنر ارشاد حسن خان

واضح رہے کہ نادرا کی تیار کردہ ووٹرلسٹوں پرسیاسی جماعتوں نے سخت اعتراضات کیے تھے جس کے بعد الیکشن کمیشن کو ہاتھ سے دوبارہ لسٹیں تیار کرنی پڑی تھیں۔یہی وجہ ہے کہ ووٹر لسٹوں کی فوٹو کاپیاں بنانے پر گیارہ کروڑ پچانوے لاکھ روپوں کے قریب اخراجات اٹھانے پڑے۔

الیکشن کمیشن نے دو ہزار دو کے انتخابات کے دوران متفرق اخراجات کے مد میں ساڑھے چوراسی لاکھ روپے کے قریب خرچہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس مد میں ستانوے کے انتخابات کی نسبت خرچہ تو خاصا کم ہے لیکن اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

سن دو ہزار دو میں الیکشن اور کھانے پینے کے الاؤنس کی مد میں چھتیس کروڑ اڑسٹھ لاکھ روپوں سے زیادہ خرچہ کیا گیا جبکہ ستانوے میں اس مد میں پندرہ کروڑ روپے کے لگ بھگ اخراجات ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق پبلسٹی پر گزشتہ انتخابات کے دوران نو کروڑ چھیاسٹھ لاکھ روپے خرچ کیے گئے جبکہ اس مد میں ستانوے کے انتخابات کے دوران محض بہتر لاکھ روپے خرچہ ظاہر کیا گیا تھا۔

ستانوے کے انتخابات میں ’انٹرٹینمینٹ اور کنوینس‘ کے مد میں ایک کروڑ روپے خرچہ کیا گیا تھا اور دوہزار دو کے انتخابات میں اس مد میں پونے تین لاکھ کا خرچہ بتایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیلی فون اور پٹرول کی مد میں بھی سن دو ہزار دو کے انتخابات میں انیس سو ستانوے کی نسبت کم خرچہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ستانوے میں ٹیلی فون پر ایک کروڑ باسٹھ لاکھ روپے جبکہ دوہزار دو میں اس مد کا خرچہ ساڑھے ستاون لاکھ روپے ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں سن ستانوے کے بعد ملک میں پیدا ہونے والے حالات کا جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے جبکہ صدر جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ سیاسی اصلاحات کے متعلق احکامات کی نقول بھی شامل کی گئی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک بھر میں سات کروڑ بیس لاکھ ووٹرز کے لیے ساڑھے چونسٹھ ہزار کے لگ بھگ پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد