BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 April, 2005, 00:34 GMT 05:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئے عام انتخابات کا مطالبہ

مصطفے کھر
سابق گورنر مصطفے کھر کی مصالحتی کوششوں کا بہت چرچا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں سے حزب اختلاف کے مختلف سیاستدان بڑھ چڑھ کر اس سال نئے عام انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ معمول کے مطابق انہیں سنہ دو ہزار سات میں منعقد ہونا ہے۔ بعض سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ حالات اس سال کے آخر تک نئے عام انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ان لوگوں میں آزاد جمہوری گروپ کے میاں محمد اظہر اور فخر امام، پیپلزپارٹی کے آصف زرداری اور غلام مصطفے کھر پیش پیش ہیں۔

تاہم صدر جنرل پرویزمشرف بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ عام انتخابات سنہ دو ہزار سات میں ہی ہوں گے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ اس سال جولائی اور اگست میں مقامی حکومتوں کے انتخابات منقعقد کرانے کی بات کررہی ہے۔

پیر کے روز لاہور پریس کلب میں آزاد جمہوری گروپ کے رہنما اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر فخر امام نے میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کیا۔

انہوں نے موجودہ سیاسی منطر نامہ کا طویل پس منطر پیش کیا اور کہا کہ موجودہ پارلیمینٹ غیر موثر ہے جس کا اہم پالیسیوں کی تشکیل میں کوئی کردار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج تک وزیر خارجہ خورشید قصوری نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرارت پر پارلیمینٹ میں کوئی پالیسی بیان نہیں دیا۔ اسی طرح ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے تعلقات، ایٹمی پروگرام اور دوسرے ملکوں سے تعلقات پر وزیراعظم کے بجائے صدر مشرف فیصلے کررہے ہیں۔

فخر امام نے کہا کہ اس پارلیمینٹ نے اپنے بہت سے اختیارات سترہویں ترمیم کے ذریعے صدر جنرل پرویز مشرف کو دے دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سترہویں آئینی ترمیم نے صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں منظور کی گئی آٹھویں ترمیم سے بھی زیادہ اختیارات صدر کو دے دیے ہیں۔

انیس سو پچاسی کی غیرجماعتی قومی اسمبلی کے اسپیکر فخر امام کا موقف تھا کہ اس پارلیمینٹ کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں عالمی صورتحال ایسی ہے اور افغانستان اور ایران کے حالات ایسے ہورہے ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں اس سال کے آخر تک عام انتخابات کرانا لازمی ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انیس سو ستر کی ایک پارلیمینٹ کے سوا کسی پارلیمینٹ نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔

فخر امام کا کہنا تھا کہ امریکہ کی سیکرٹری خارجہ کنڈولیزا رائس حال میں چار ملکوں کے دورے پر گئیں اور انہوں نے صرف پاکستان کے بارے میں یہ کہا کہ یہاں سن دو ہزار سات کے عام انتخابات منصفانہ، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس بیان سے یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ ملک میں جب بھی نئے انتخابات ہوئے وہ منصفانہ ہوں گے۔

فخر امام سے پہلے ان کے گروپ کے رکن اور حکمران مسلم لیگ (ق) کے سابق صدر میاں محمد اظہر بھی اسی قسم کی پیشن گوئی کرچکے ہیں کہ ملک کے حالات نئے عام انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

فخر امام نے وفاق کے درپیش خطرہ کی نشان دہی کرتے ہوئے بلوچستان کے معاملہ کا تفقیل سے ذکر کیا اوراسے بھی نئے عام انتخابات کے جواز کے لیے پیش کیا۔

ایک دن پہلے اتوار کو لاہور میں بلوچستان کے مسائل پر ایک سیمینار منعقد ہوا تھا جس میں بلوچ رہنماؤں کے علاوہ سابق گورنر پنجاب غلام مصطفٰے کھر نے بھی خطاب کیا تھا۔ مصطفٰے کھر کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسئلہ کے حل کے لیے صرف مذاکرات کا راستہ ہے اور اس کے لیے فوری طور پر ایسے منصفانہ الیکشن کرائے جائیں جن پر سیاسی قائدین کو منصفانہ ہونے کا یقین ہو۔

کھر نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے حوالہ سے صدر جنرل پرویز مشرف سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ انہوں نے پانچ سال ایک بادشاہ کی طرح حکومت کرلی ہے اور اب وہ تاریحی شعور کا مظاہرہ کریں اور خود کو صدر کے منصب پر قائم رکھنے کے لیے ملک کے وفاق کو داؤ پر نہ لگائیں۔

مصطفٰے کھر نے صدر جنرل مشرف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ قومی مصالحت کی پالیسی اختیار کریں اور نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور شہباز شریف سمیت ملک سے باہر موجود اور جیلوں میں قید تمام سیاستدانوں کے خلاف مقدمات ختم کریں۔

اسی طرح ایک ہفتہ پہلے پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری نے دبئی سے لاہور پہنچنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں جنرل مشرف سے مطالبہ کیا تھا کہ اسی سال عام انتخابات کرائیں۔

فخر امام، مصطفٰے کھر اور آصف زرداری کا اسی سال عام انتحابات کروانے کے مطالبہ پر زور معنی خیز ہے۔ یہ سب وہ سیاسی رہنما ہیں جن کے کسی نہ کسی شکل میں اسٹیبلیشمینٹ سے رابطے ہیں۔

اب یہ وقت بتائے گا کہ یہ سیاسی قائدین حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے نئے الیکشن کا مطالبہ کررہے ہیں یا وہ اس مطالبہ کے ذریعے عام انتخابات کے کسی منصوبہ کے لیے فضا تیار کررہے ہیں۔ ماضی میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ اسٹیبلیشمینٹ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سیاستدانوں کے ذریعے ایک فضا تیار کرتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد