آصف زرداری کی داتا دربار حاضری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے جمعرات کو داتا گنج بخش کے دربار میں حاضری دی انہوں نے وہاں نماز مغرب پڑھی، فاتحہ خوانی کی اور چادر چڑھائی لیکن اس سے پہلے انہیں دس گھنٹے تک اپنی قیام گاہ بلاول ہاؤس دوئم پرغیراعلانیہ طور پرنظربندرہنا پڑا۔ آصف زرداری نے اعلان کیا تھا کہ وہ سولہ اپریل کو دوبئی سے پاکستان آکر ایک جلوس کی شکل میں مزار داتا گنج بخش پر حاضری دیں گے لیکن حکومت پنجاب نے انہیں جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی تھی اور ملک بھر میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ آصف زرداری نے بعد میں اعلان کیا کہ وہ جمعرات کو داتا دربار پر حاضری دیں گے لیکن آج صبح سے ہی ان کی قیام گاہ بلاول ہاؤس پولیس کے گھیرے میں رہی۔ آصف زرادی کے میڈیا کوآرڈینیٹر جمیل احمد سومرو نے کہا کہ صبح پوپھٹنے سے لیکر دوپہر تک پولیس کی بھاری نفری نے بلاول ہاؤس کو گھیرے میں لیے رکھا تھا اور کسی کو بلاول ہاؤس آنے جانے کی اجازت نہیں تھی پھر کوئی چارگھنٹے کے لیے پولیس محاصرہ ختم کیا گیا اور ساڑھے چار بجے پھر پولیس کی نفری بڑھا دی گئی۔ سہ پہر ساڑھے پانچ بجے آصف زرداری داتا دربار جانے کے لیے روانہ ہوئے تو ان کی گاڑی کو بلاول ہاؤس کےگیٹ سے نکلتے ہی پولیس نے روک لیا اور اس کے راستے میں پولیس کی بسیں کھڑی کر دیں تقریبا آدھے گھنٹے تک پولیس نے انہیں روکے رکھا۔ پھر اچانک انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی وہ داتا دربار پہنچے تو کارکنوں نے نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ آصف زداری نماز مغرب کے لیے کھڑے ہوئے تو ان کے دائیں بائیں قاسم ضیااور شاہ محمود قریشی بھی تھے۔ اس موقع پر کوئی دوسو کے قریب کارکن داتا دربار کے اندر موجود تھے۔ آصف زرداری کی لاہور آمد کے بعد سے غلام مصطفی کھر مسلسل ان کے ساتھ ساتھ ہیں اور جب کسی کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی تب بھی پولیس صرف غلام مصطفی کھر کو ان سے ملاقات کی اجازت دے دیتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||