سونیا کا مقدمہ سپریم کورٹ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے فیصل آباد کے پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں مبینہ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کے واقعہ کے بارے میں پنجاب حکومت سے دس روز کے اندر رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عدالت نے بدھ کو یہ حکم انسانی حقوق کے کارکن ایڈوکیٹ ذوالفقار علی کی دائر کردہ اس درخواست پر دیا ہے جس میں چیف جسٹس سے ازخود کارروائی کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے حکم سے پہلےاس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم شوکت عزیز نےمنگل کے روز تحقیقات کا حکم دیا تھا اور پنجاب کے آئی جی پولیس نے فیصل آباد کے تھانہ جڑانوالہ کے ایس ایچ اور جمشید چشتی کو معطل کردیا تھا۔ سونیا ناز نامی خاتون نےایک اخباری انٹرویو میں الزام لگایا تھا کہ فیصل آباد کے ایس پی تحقیقات خالد عبداللہ کے حکم پر انہیں ایس ایچ او جڑانوالہ جمشید چشتی نے اغوا کرکے دو ہفتے تک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ واضح رہے کےدو بچوں کی ماں تئیس سالہ سونیہ ناز اپنے گرفتار شوہر کوانصاف دلانے کے لیے چند ماہ قبل غلطی سےقومی اسمبلی کےایوان کے اندر داخل ہوکر اراکین اسمبلی کے ساتھ بیٹھ گئیں تھیں اور انہیں بعد میں جیل بھجوایا گیا تھا۔ سونیا ناز کا کہنا ہے کہ وہ جیسے ہی اڈیالہ جیل سے رہا ہوئیں تو انہیں جڑانوالہ تھانے کے ایس ایچ او نے اغوا کرلیا تھا۔ اخبار میں ان کاانٹرویو شائع ہونے کے بعد منگل کو قومی اسمبلی میں جب حزب اختلاف نے یہ معاملہ اٹھایا تھا تو وزیراعظم نے ایوان کو بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم نے ایوان کو یقین دہانی کروائی تھی کہ حکومت اس واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||