انتخاب لڑنے کی مشروط اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے مدارس کی سندیں رکھنے والے افراد کو مشروط طور پر مقامی انتخابات لڑنے کی اجازت دینے کا عبوری حکم جاری کیا ہے جنہیں اس سے پہلے دو متضاد فیصلوں میں لاہور ہائی کورٹ نے انتخابات لڑنے کے لیے نا اہل اور پشاور ہائی کورٹ نے اہل قرار دے دیا تھا۔ جمعہ بارہ اگست کو لاہور میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ عبوری فیصلہ فیصل آباد کی یونین کونسل دو سو چونتیس کے ایک امیدوار شوکت علی وغیرہ کی رِٹ درخواست پر سنایا۔ عدالت عظمیٰ کا بینچ جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس فلک شیر اور جسٹس سردار رضا خان پر مشتمل تھا۔ جمعہ کو عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس بارے میں تفصیلی فیصلہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد دیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ دینی مدرسوں کی اسناد میٹرک اور بی اے وغیرہ کے مساوی ہیں یا نہیں اور وہ کونسا ادارہ ہے جو اس بات کا تقین کرتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے ججوں نے سماعت میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ کیا دینی مدرسوں کے بارے میں آرڈیننس قانون (ایکٹ) بن چکا ہے یا نہیں۔ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے میں دینی مدرسوں کی اسناد کو میٹرک کے مساوی قرار نہیں دیا جاتا تو ان اسناد کی بنیاد پر انتخابات لڑنے والے اپنی نشستوں سے محروم ہوجائیں گے۔ اس سے پہلے تین اگست کو لاہور ہائی کورٹ کے دو ججوں نے اپنے الگ الگ فیصلوں میں قرار دیا تھا کہ دینی مدرسوں کی سندوں میٹرک اور بی اے یا ایم اے کے برابر نہیں اور یہ سندیں رکھنے والے انتخابات لڑنے کے اہل نہیں۔ ایک فیصلہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ افتخار چودھری نے دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مقامی انتخابات کے امیدواروں کی دینی مدرسوں سے حاصل کی گئیں سندیں اس وقت تک میٹرک کے مساوی نہیں ہیں جب تک یہ طالبعلم کسی سیکنڈری بورڈ سے تین لازمی مضمونوں کے امتحان پاس نہیں کرلیتے۔ ایک دوسرے فیصلہ میں جسٹس سید حامد علی شاہ نے خوشاب کے ایک شخص قاری سعید کی ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواست بھی مسترد کردی تھی۔ جج نے کہا تھا کہ جب شہادت الثنویہ کی سند میٹرک کے برابر نہیں تو شہادت العالمیہ کی سند کالج یا یونیورسٹی کی ڈگری کے برابر بھی نہیں ہوسکتی۔ تاہم پشاور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے آٹھ اگست کو اپنے ایک فیصلے میں دینی مدارس کی اسناد پر دیر بالا میں ناظم اور نائب ناظم کے عہدوں پر الیکشن کے لیے ناہل قرار دیے جانے والے امیدواروں کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی تھی اور کہا تھا کہ یہ اسناد میٹرک اور بی اے کے برابر ہیں۔ سپریم کورٹ میں دینی مدرسوں کی سندوں کے حوالے سے یہ مقدمہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ پارلیمینٹ میں متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے ستر سے زیادہ ارکان دینی مدرسوں سے فارغ التحصیل ہیں اور اس بارے میں کوئی فیصلہ ان کے مستقبل کے لیے بھی اہم ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||