BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 August, 2005, 11:48 GMT 16:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مقامی انتخابات، سوا دو لاکھ امیدوار

مقامی انتخابات
مقامی حکومتوں کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ پندرہ اگست کو ہوگی
ملک کے ایک سو دس ضلعوں میں تقریباً سوا دو لاکھ امیدوار مقامی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ یوں ہر یونین کونسل میں اوسطاً چھتیس سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق چھ ہزار ایک سو اٹھائیس یونین کونسلوں کی اناسی ہزار چھ سو چونسٹھ نشستوں کے لیے دو لاکھ بائیس ہزار سات سو تراسی حتمی امیدوار ہیں جبکہ شروع میں دو لاکھ چھیاسٹھ ہزار چار سو ستائیس افرادنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے جن میں سے کچھ مسترد کردیے گئے اور بعض نے اپنے کاغذات واپس لے لیے۔

ملک کے چون ضلعوں میں یونین کونسلوں کے لیے اٹھارہ اگست کو اور چھپن ضلعوں میں پچیس اگست کو ووٹنگ ہوگی جن میں چھ کروڑ اڑتیس لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔

ایک یونین کونسل میں کل تیرہ نشستیں ہوتی ہیں جن میں ناظم اور نائب ناظم کی ایک ایک نشست، چار نشستیں مسلم عمومی، دو عورتوں کی مخصوص نشستیں، دو نشستیں مزدوروں اور کسانوں کی، دو نشستیں مزدور اور کسان عورتوں کی اور ایک اقلیت کی مخصوص نشست ہے۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں مرحلوں میں چوبیس ہزار پانچ سو بارہ مسلم عمومی نشستوں پر کل ایک لاکھ آٹھ سو اٹھارہ امیدوار ہیں۔ مسلم عورتوں کی بارہ ہزار دو سو چھپن نشستوں پر ستائیس ہزار آٹھ سو چھبیس امیدوار ہیں۔ بارہ ہزار دو سو چھپن مزدور کسان نشستوں پر پچاس ہزار ایک سو چھیالیس امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ بارہ ہزار دو سو چھپن مزدور کسان عورتوں کی نشستوں پر انیس ہزار پانچ سو چھیانوے امیدواروں میں مقابلہ ہے۔ اقلیتوں کی چھ ہزار ایک سو اٹھائیس نشستوں پر چھ ہزار چار سو پچیس امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔ یونین کونسلوں کے ناظم اور نائب ناظم کی چھ ہزار ایک سو اٹھائیس نشستوں کے لیے سترہ ہزار نو سو بہتر امیدوار پینل کی صورت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔

پنجاب میں تین ہزار چار سو چونسٹھ یونین کونسلوں کی پینتالیس ہزار بتیس نشستیں ہیں۔ یہاں پر ایک لاکھ تینتیس ہزار تین سو اکیانوے امیدواروں میں مقابلہ ہے۔

سندھ میں ایک ہزار ایک سو دس یونین کونسلوں کی چودہ ہزار چار سو تیس نشستیں ہیں۔ یہاں پر انتالیس ہزار تین سو انتالیس امیدواروں میں مقابلہ ہے۔

صوبہ سرحد میں نو سو ستاسی یونین کونسلوں کی بارہ ہزار آٹھ سو ستاسی نشستیں ہیں۔ یہاں پر تینتیس ہزار چھ سو پچیس امیدواروں میں مقابلہ ہوگا۔

بلوچستان میں پانچ سو سڑسٹھ یونین کونسلوں کی سات ہزار تین سو اکہتر نشستیں ہیں۔ یہاں پر سولہ ہزار چار سو اٹھائیس امیدوار میدان میں ہیں۔

یونین کونسلوں کے لیے منتخب ہونے والے تقریباً اسی ہزار کونسلرز، ناظم اور نائب ناظم انتیس ستمبر کو مقامی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلہ میں تحصیل کونسلوں اور ضلع کونسلوں کے ناظموں اور نائب ناظموں کا انتخاب کریں گے۔

66’ سیٹ ایڈجسٹمنٹ‘
کراچی:حکومت، اپوزیشن کی سیاسی مفاہمت
66بلدیاتی نظام کے4 سال
مقامی اور صوبائی حکومتی چپقلش عروج پر
66کون سچا، کون جھوٹا؟
بلدیاتی انتخابات میں سرکاری وسائل کااستعمال
66نیا بلدیاتی نظام
نیا نظام اب صوبہ کے وزیراعلی کے رحم و کرم پر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد