BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 August, 2005, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اختیار ہمارا، ذمہ داری آپکی

بلدیاتی انتخابات
ملک میں نئے بلدیاتی انتخابات کا شور ہے
سنہ دو ہزار میں جب قومی تعمیر نو بیورو نے اپنے بنائے ہوئے نئے مقامی حکومتوں کے نظام کی تشہیر کی تو اختیارات کی نچلی سطح کی تقسیم کے فلسفے اور اس کے فوائد پر طویل مضامین کے ساتھ ساتھ اس کا نعرہ یہ تھا کہ ’اختیار آپکا، ذمہ داری آپکی‘۔

آج ملک کی یونین کونسلوں کی تقریبًا اسی ہزار نشستوں کے لیے لگ بھگ ڈھائی لاکھ امیدواران اس اختیار اور اس ذمہ داری کے لیے میدان میں ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کم یا زیادہ جو اختیار پانچ سال پہلے ان اداروں کو دیا گیا تھا کیا وہ اب بھی موجود ہے؟

اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے نام پر بننے والے اس مقامی حکومتوں کے نظام میں اس سال جون میں صدر مشرف کی منطوری سے صوبوں نے نئی ترامیم کردی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ان ترامیم کے تحت یونین کونسلوں، تحصیل کونسلوں اور ضلع کونسلوں پر مشتمل یہ نظام پوری طور پر صوبہ کے وزیراعلی کے ماتحت کام کرے گا اور وزیراعلی کے رحم و کرم پر ہوگا۔

نئے قانون میں وزیراعلی کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ یونین کونسل، تحصیل کونسل اور ضلع کونسل کے ناظمین کے کسی بھی حکم کو منسوخ کرسکتا ہے اور یونین کونسل ، تحصیل کونسل اور ضلع کونسل کی کسی بھی قرارداد کو منسوخ کرسکتاہے۔ (پنجاب لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس مجریہ دو ہزار پانچ کی شق نمبر گیارہ، بیس، اٹھائیس، بتیس، پینتیس اور چالیس)

اصل قانون میں ایک یونین کونسل کے ناظم کو معطل کرکے اس کے خلاف انکوائری شروع کرنے کے لیے ضروری تھا کہ تحصیل کونسل کی اکثریتی قرارداد اس کی منظوری دے اور تحصیل کونسل کے ناظم کو ہٹانے کے لیے ضلعی کونسل قرارداد پاس کرے اور ضلع ناظم کو ہٹانے کے لیے صوبائی اسمبلی منظوری دے۔

اب ترمیم شدہ قانون کے تحت ایک ناظم کو وزیراعلی نوے روز کے لیے معطل کرسکے گا اور معاملہ کو مقامی حکومت کمیشن کے پاس بھیجے گا۔ یوں یونین کونسل سے لے کر ضلع کونسل تک ہر مقامی ادارہ پر وزیراعلی کے برطرف کردینے کے اختیار کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔

پہلے ضلع کونسل کو منتخب کرنے والے یونین کونسلرز سادہ اکثریت سے ضلع ناظم کوہٹا سکتے تھے لیکن اب نئے قانون کے تحت انہیں اسے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی جس سے کسی ناظم کو ہٹانا یونین کونسلروں کے لیے تقریبا نا ممکن ہوجائے گا۔ گویا لوگ ایک سادہ اکثریت سے ایک شخص کو ناظم منتخب تو کرسکتے ہیں لیکن اسے ہٹا نہیں سکتے۔

اسی طرح ضلع کونسل کی بھی نئی قانون میں کیا حیثیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ضلع کونسل کے فیصلوں یا قراردادوں کو وزیراعلی منسوخ کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور پھر وہ یہ معاملہ مقامی حکومت کمیشن کے سپرد کردے گا۔

یہ چھ رکنی کمیشن صوبائی حکومت یعنی وزیراعلی کے مقرر کردہ پانچ افراد پر مشتمل ہوگا اور چھٹا رکن صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا نامزد کردہ ہوگا۔ یہ کمیشن کتنا آزاد ہوگا اس کے ساخت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مقامی حکومتوں کے نام نہاد با اختیار نظام کے پاس مالی اختیار یا ٹیکس لگانے کے اختیار تو پہلے سے نہیں تھے اور وہ اپنے فنڈز کے لیے صوبائی حکومتوں کے محتاج تھے۔

اسی طرح ضلعی حکومتوں کو جزوی طور پر جن نو دس محکموں کا انتظامی اختیار دیاگیا تھا ان میں بھی صوبائی ملازمت کے افسر اور اہلکار تھے جو ضلعی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی سیکرٹریوں کے انتظامی اختیارات کے تحت کام کرتے ہیں۔ ضلع کی پولیس پر بھی ضلع کونسل یا ضلعی ناظم کو پہلے سے ہی کوئی اختیار نہیں تھا۔

یہ بات اب ایک سوالیہ نشان ہے کہ مقامی اداروں کے اس طرح وزیراعلی کے کنٹرول میں دیے جانے کے بعد اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کا دعویٰ کیا معنی رکھتا ہے اور اگست میں ہونے والے انتخابات کے بعد جو ادارے وجود میں آئیں گے وہ کس کے لیے کام کریں گے۔

کیا نئی ترامیم کے قومی تعمیر نو بیورو کا نعرہ یہ ہوسکتا ہے کہ ’اختیار ہمارا، ذمہ داری آپکی’؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد