کون سچا، کون جھوٹا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چند دنوں سے ملک کے ٹی وی چینلز پر ایک اشتہاری مہم چل رہی ہے جس میں دکھایا جاتا ہے کہ پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الٰہی نے صوبہ کے کسانوں کو بیس فیصد رعایتی نرخوں پر بجلی دینے کا اقدام کیا ہے اور کسانوں کو وافر مقدار میں پانی مل رہا ہے۔ دوسری طرف ایک اور اشتہار میں سندھ کے وزیراعلیٰ اپنے صوبے میں گھر گھر علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ سرکاری خزانہ کے کروڑوں روپے سے یہ اشتہاری مہمیں ایسے وقت میں چلائی گئی ہیں جب مقامی انتخابات کے لیے پولنگ میں چند ہفتے باقی ہیں۔قائم مقام الیکشن کمشنر بار بار کہہ رہے ہیں کہ انتخابات میں سرکاری وسائل خرچ کرنے پر پابندی عائد ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ انتخابات منصفانہ ہوں گے اور حزب اختلاف کے انتخابات میں دھاندلی کے خدشات بے بنیاد ہیں۔ دونوں وزرائے اعلیٰ جو کام کروا رہے ہیں ان کے بڑے بڑے اشتہارات اخباروں میں بھی آتے ہیں اور ان کا تعریفی ذکر قومی اخبارات کے کالم نویس بھی کرتے رہتے ہیں۔ اتفاق ہے کہ لاہور پریس کلب کے رکن نو سو صحافیوں کے لیے پنجاب کے وزیراعلی نے دس دس مرلے کے پلاٹ دینے کا جو وعدہ کیا تھا ان پلاٹوں کی الاٹ مینٹ کے عمل کا آغاز بھی چند روز پہلے شروع کیا گیا ہے۔ ایک ہفتہ پہلے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بلدیات و دیہی ترقی نے چیف الیکشن کمشنر سے کہا ہے کہ وہ مقامی انتخابات کے شفاف اور غیر جانبدارانہ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائیں اور ان انتخابات میں حکومتی مشینری کا استعمال اور مداخلت روکی جائے۔ صدر پرویزمشرف نےچند روز پہلے سوات میں جلسہ سے خطاب کیا، وہاں ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا اور لوگوں سے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ق) کے امیدواروں کو جتوائیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت پر اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنے کا الزام لگار رہی ہیں۔ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے چئرمین مخدوم امین فہیم کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شوکت عزیز سے پٹواری تک ہر سرکاری آدمی حکومت کے امیدواروں کی انتخابی مہم چلا رہا ہے۔ سندھ میں حزب اختلاف کی جماعتیں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی، الزام لگارہی ہیں کہ پولیس، محکمہ آبپاشی اور محکمہ مال اس کے حمایت یافتہ امیدواروں کو دھمکا رہے ہیں، ان کے امیدواروں کو اغوا کیا گیا، پانی چوری کے الزامات میں حراست میں رکھا گیا اور انہیں کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرانے دیے گئے۔ پیپلز پارٹی نے ایسی ہی شکایات پنجاب میں گجرات ضلع میں بھی کی ہیں۔ سندھ کے تئیس ضلعوں میں سے گیارہ ضلعوں میں اب تک ایک ہزار چون ناظم اور نائب ناظم بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جبکہ صوبہ کے وزیراعلیٰ ارباب رحیم کے رہائشی اور انتخابی ضلع تھرپارکر کی چار تحصیلوں (تعلقوں) میں چوالیس یونین کونسلوں میں سے پینتیس یونین کونسلوں سے ناظم اور نائب ناظم بلا مقابلہ انتخاب جیت گئے ہیں۔ ضلع تھر پارکر سے بلا مقابلہ ناظمین اور کونسلروں کی کل تعداد دو سو پچانوے ہوگئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید برملا یہ بات کہہ چکے ہیں کہ پنجاب میں وہی امیدوار جیتے گا جس کے جیتنے کا فیصلہ وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کریں گے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی کہتے رہتے ہیں کہ انتحابات منصفانہ ہوں گے۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر عبدالحمید ڈوگر نے تیس جون کے بعد کیے جانے والے تمام تبادلے منسوح کردیے تھے اور پنجاب حکومت نے بھی اس کے بعد تمام تبادلوں کو منسوخ کرنے کا حکم جاری کردیا تھا۔ تاہم تیرہ جولائی کو پنجاب میں مختلف تبادلوں پر پابندی ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا اور حکومت نے متعدد سیکرٹری اور پولیس افسروں کا تبادلہ کردیا۔
وزیراعظم شوکت عزیز اور صدر مشرف نے ایک حالیہ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ مقامی انتخابات میں ہر امیدوار کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس دوران میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے سڑکوں پر اپنے اشتہاری بورڈز لگانے کے لیے متعلقہ محکمہ پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی سے اجازت مانگی تو اس نے انکار کردیا۔ حکمران جماعت مسلم لیگ کے بل بورڈز تو پہلے سے آویزاں ہیں۔ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چئرمین ملک اللہ یار خان کا کہنا ہے کہ سنگین بدعنوانیوں میں ملوث سابق ناظمین انتہائی بارسوخ ہیں جبکہ شیخو پورہ، رحیم یار خان، اٹک، ڈی جی خان سمیت کئی ضلعے بدعنوانی میں سرفہرست ہیں۔ ان سب ضلعوں میں حکومت سے تعلق رکھنے والے ضلع ناظمین تھے اور اب پھر ان کے گروپ میدان میں ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کئی بار یہ بات کہی ہے کہ ان یہ غیر جماعتی انتخابات ہیں اور کوئی سیاسی جماعت نام بدل کر مقامی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی امیدوار کوئی ایسی نشانی استعمال نہیں کرسکتے جس سے ان کی جماعتی وابستگی ظاہر ہو اوراگر کوئی امیدوار ایسا کرے گا تو اسے نااہل قرار دے دیا جائے گا۔ دوسری طرف سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب رحیم کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات غیر جماعتی تو ہیں لیکن غیر سیاسی نہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ صوبہ میں ان کی جماعت سو فیصد نشستیں حاصل کرے گی۔ پنجاب میں بھی سیاسی جماعتوں نے یوینین کونسلوں کے لیے اپنے اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کی فہرستیں اخبارات میں جاری کیں۔ لاہور میں مسلم لیگ ہاؤس میں امیدواروں کے انٹرویو ہوئے۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور متحدہ مجلس عمل نے مشترکہ امیدواروں کے لیے ہر نشست پر ایڈجسٹمینٹ کرنے کا اعلان کیا۔ چودھری شجاعت حسین نے انتخاباتی عمل شروع ہونے سے پہلے دعوی کیا تھا کہ یہ الیکشن اتنے شفاف ہوں گے کہ دنیا عش عش کر اٹھے گی۔ وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی بار بار مقامی انتخابات کے شفاف اور منصفانہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے اور حزب اختلاف سے کہا کہ وہ بے بنیاد الزامات نہ لگائے۔ دوسری طرف سابق آرمی چیف اور عوامی قیادت پارٹی کے سربراہ جنرل (ر) اسلم بیگ کا کہنا ہے کہ مقامی انتخابات میں سرکاری امیدواروں کو جتوایا جائے گا اور ان اداروں کے ذریعے عام انتخابات میں سرکاری پارٹی کی کامیابی کی بنیاد رکھی جائی گی۔ کون سچا ہے کون جھوٹا؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||