BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 July, 2005, 13:52 GMT 18:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خواتین کے ریکارڈ کاغذات نامزدگی

سرحد میں خواتین کونسلر
دیر میں اسی طرح کی پابندی پر غیرسرکاری تنظیموں کے جانب سے احتجاج کیا گیا ہے
پاکستان کے صوبہ سرحد کے کچھ قدامت پسند اضلاع میں خواتین کو بلدیاتی انتخابات میں امیدوار نا بنانے پر مفاہمت، امیدوار بننے سے روکنے کے بارے میں الیکشن کمیشن کی وارننگ اور بڑی سیاسی جماعتوں کی خواتین ارکان اسمبلی کے علاقے کے دوروں کے بعد ان اضلاع میں خواتین نے ریکارڈ تعداد میں کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ایک اعلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر ملک کے کسی بھی حصے میں خواتین نے بلدیاتی انتخابات میں کاغذات نامزدگی داخل نہ کرائے تو اس علاقے میں بلدیاتی الیکشن نہیں ہو گا۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے صوبہ سرحد کے کچھ قدامت پسند اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے لیےخواتین کی طرف سے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی تاریخ میں آج رات تک کی توسیع کر دی تھی جس کا واحد مقصد ان اضلاع میں خواتین کو کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا ایک آخری موقع دینا تھا۔

یہ توسیع ان اطلاعات کے بعد کی گئی تھی کہ جن کے مطابق صوبہ سرحد کے کچھ اضلاع میں خواتین کو کاغذات نامزدگی داخل کرانے سے روکا جا رہا ہے اور ان اضلاع کی سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہو چکی ہیں کہ خواتین کو بلدیاتی انتخابات میں امیدوار نہ بنایا جائے۔

صوبہ سرحد کے چند قدامت پسند اضلاع جن میں بٹگرام، اپردیر، لوئردیر اور کوہستان شامل ہیں وہاں گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی سینکڑوں نشستیں صرف اس وجہ سے خالی رہ گئی تھیں کیونکہ ان اضلاع کی خواتین کو بلدیاتی انتخابات لڑنے سے روکا گیا تھا۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ انتخابات میں لوئر دیر کی چونتیس لوکل کونسل کی خواتین کے لیےمخصوص دو سو چودہ نشستوں پر صرف اٹھارہ خواتین منتخب ہو کر آسکی تھیں۔

الیکشن کمیشن کی یہ کوشش رائیگاں نہیں گئی کیونکہ اب تک جمع کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق اپر دیر میں ایک سو اٹھاون، لوئر دیر میں دو سو اور بٹگرام میں اکیس خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر کسی بھی ضلع میں خواتین نے بلدیاتی انتخابات کے لیےکاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے تو اس ضلع میں انتخابات نہیں ہوں گے۔

گزشتہ ہفتے ایسی اطلاعات سامنے آئیں تھیں جن کے مطابق صوبہ سرحد کے چند اضلاع میں خواتین کو بلدیاتی انتخابات لڑنے سے روکا جا رہا ہے اور چند سیاسی جماعتوں اور علاقے کے با اثر افراد نے اس سلسلے میں ایک معاہدہ بھی کیا تھا۔

تاہم پہلے الیکشن کمیشن نے ایک بیان جاری کیا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی شرکت میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور بعد میں حکمران مسلم لیگ اور اپوزیشن پیپلز پارٹی کی خواتین نے وہاں جا کر اس علاقے کی خواتین کا حوصلہ بڑھایا کہ وہ روایات اور علاقے میں مردوں کی مخالفت کو پس پشت ڈال کر اس بار کمر کس کے میدان میں نکل آئیں۔

الیکشن کمیشن نے اپنی وارننگ میں کہا ہے کہ خواتین کے بلدیاتی انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو تین برس تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے اور اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کسی مخصوص علاقے میں خواتین کو الیکن میں حصہ لینے سے روکا گیا ہے تو وہاں منعقد کیے گئے بلدیاتی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ ملک کے بعض علاقوں خصوصاً دیر اور بٹگرام میں علاقے کے با اثر افراد خواتین کو بلدیاتی انتخابات لڑنے کے لیےکاغذات نامزدگی سے روک رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت کاروائی کی جائے گی۔

اس آرڈیننس کے تحت اگر کوئی بھی شخص ان انتخابات پر غیر قانونی طور پر اثر انداز ہوتا ہے یا کسی شخص کو اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے پر مجبور کرتا ہے تو اسے تین برس قید تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

الیکشن کمیشنرنے یہ بھی کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے ضابطہ اخلاق میں یہ صاف طور پر لکھا ہے کہ انتخابات میں امیدواروں اور ورکروں کو جنسی امتیاز کی بنیادوں پر انتخابی مہم چلانے اور کسی کو اس بنیاد پر انتخابات میں حصہ نہ لینے سے روکنا خلاف قانون ہے۔

ادھر وفاقی حکومت کی طرف سے بھی یہ کوشش ہو رہی ہے کہ کسی طرح ان اضلاع میں خواتین میں یہ شعور اجاگر کیا جا سکے کہ وہ سیاسی میدان میں مردوں کے مقابل آ سکتی ہیں۔ وزیر اعظم کی مشیر نیلوفر بختیار گزشتہ پانچ روز سے صوبہ سرحد کے ان اضلاع کے دورے پر تھیں اور وہ اپنی نگرانی میں خواتین کے کاغدات نامزدگی جمع کروا رہی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد