BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 July, 2005, 06:58 GMT 11:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
29 خواتین نوبل پرائز کے لیے نامزد

عاصمہ جہانگیر
عاصمہ جہانگیر پہلے بھی کئی عالمی اعزازت حاصل کر چکی ہیں
دنیا کے سب سے بڑے اعزاز نوبل امن پرائز کے لیے نامزد کی گئی ایک ہزار خواتین میں سے انتیس کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ بھارت سے اکاون، بنگلہ ادیش سے سولہ، سری لنکا سے بارہ اور نیپال سے نو خواتین کو نامزد کیاگیا ہے۔

پاکستان سے پہلی مرتبہ خواتین کو امن نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

پاکستان سے نامزد خواتین میں اکثریت کا تعلق مختلف این جی اوز سے ہے۔ تاہم اس فہرست میں فن، قانون اور خدمتِ عامہ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی شامل ہیں۔

ان میں عورت فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگار احمد، انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اسٹڈیز پریکٹس کوئٹہ کی بانی ڈاکٹر قرۃ العین بختیاری، خدمت خلق کے حوالے سے مشہور بلقیس ایدھی، ڈرامہ آرٹسٹ مدیحہ گوہر، وومین ایکشن فورم کی سربراہ انیس ہارون، انسانی حقوق کمیشن کی

News image
بلقیس ایدھی کی ایدھی فاونڈیشن کی سرگرم کارکن ہیں
سربراہ عاصمہ جہانگیر، ایڈووکیٹ حنا جیلانی، کلاسیکل ڈانسر شیما کرمانی، شرکت گاہ سے منسلک خاور ممتاز، ڈرامہ نویس کشور ناہید، جسٹس ماجدہ رضوی، سابق صحافی اور خیرپور کی ضلع ناظم نفیسہ شاہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

پاکستان میں اس نامزدگی کے نگراں محمد تحسین کا کہنا ہے کہ اس چناؤ کے لئے دو ہزار تین میں سوئٹزرلینڈ میں ایک اہم اجلاس ہوا تھا، جس میں پوری دنیا کے ریجنز کے لئے بیس امن کونسلروں کی تقرری کی گئی تھی، جن کو نامزدگی کے معاملات دیکھنے تھے۔

پوری دنیا میں نوبل امن انعام کے لئے ایک ہزار خواتین کے عنوان سے یہ مہم چلائی گئی جس میں ایک سو تریپن ممالک سے 999 خواتین کو نامزد کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں امن ایوارڈ کی نامزدگیوں کے لئے اخبارات اور میڈیا میں اشتہارات دیئےگئے تھے۔ جولائی دوہزار چار میں نامزدگیاں مرکزی کمیٹی کو بھیج دی گئیں تھیں۔

News image
عاصمہ کو خواتین میراتھن کے حق میں مظاہرے کے دوران پولیس نے زدوکوب کیا تھا

انہوں نے بتایا کہ پانچ اکتوبر دو ہزار پانچ کو اوسلو میں کمیٹی ان نو سو ننانوے خواتین میں سے امن ایوارڈ کی لئے نام منتخب کرےگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ زیادہ تر خواتین میں اکثر کا تعلق ڈویلپمنٹ سیکٹر سے ہے۔ مگر امن ایک فرد سے ممکن نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد