29 خواتین نوبل پرائز کے لیے نامزد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے سب سے بڑے اعزاز نوبل امن پرائز کے لیے نامزد کی گئی ایک ہزار خواتین میں سے انتیس کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ بھارت سے اکاون، بنگلہ ادیش سے سولہ، سری لنکا سے بارہ اور نیپال سے نو خواتین کو نامزد کیاگیا ہے۔ پاکستان سے پہلی مرتبہ خواتین کو امن نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ پاکستان سے نامزد خواتین میں اکثریت کا تعلق مختلف این جی اوز سے ہے۔ تاہم اس فہرست میں فن، قانون اور خدمتِ عامہ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی شامل ہیں۔ ان میں عورت فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگار احمد، انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اسٹڈیز پریکٹس کوئٹہ کی بانی ڈاکٹر قرۃ العین بختیاری، خدمت خلق کے حوالے سے مشہور بلقیس ایدھی، ڈرامہ آرٹسٹ مدیحہ گوہر، وومین ایکشن فورم کی سربراہ انیس ہارون، انسانی حقوق کمیشن کی
پاکستان میں اس نامزدگی کے نگراں محمد تحسین کا کہنا ہے کہ اس چناؤ کے لئے دو ہزار تین میں سوئٹزرلینڈ میں ایک اہم اجلاس ہوا تھا، جس میں پوری دنیا کے ریجنز کے لئے بیس امن کونسلروں کی تقرری کی گئی تھی، جن کو نامزدگی کے معاملات دیکھنے تھے۔ پوری دنیا میں نوبل امن انعام کے لئے ایک ہزار خواتین کے عنوان سے یہ مہم چلائی گئی جس میں ایک سو تریپن ممالک سے 999 خواتین کو نامزد کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پانچ اکتوبر دو ہزار پانچ کو اوسلو میں کمیٹی ان نو سو ننانوے خواتین میں سے امن ایوارڈ کی لئے نام منتخب کرےگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ زیادہ تر خواتین میں اکثر کا تعلق ڈویلپمنٹ سیکٹر سے ہے۔ مگر امن ایک فرد سے ممکن نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||