خواتین کاروبار میں پیچھے کیوں رہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں خواتین جہاں دیگر شعبوں میں آگے آ رہی ہیں وہاں اب کاروبار کے شعبے اور بالخصوص دوکانداری بھی شروع کردی ہے۔ اسلام آْباد میں پشاور موڑ کے قریب سیکٹر جی ایٹ اور جی نائن کے درمیان ’گرین بیلٹ، میں ہر ہفتے میں تین دن لگائے جانے والے بازار میں دو سو سے زیادہ دکانیں ایسی ہیں جو خواتین چلاتی ہیں۔ خواتین کے اس بازار کی منتظم ثمرین بٹ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دکانوں پر خواتین کے استعمال کی اشیاء ہی دستیاب ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کے اپنے سنگھار سے لے کر گھر سجانے تک اور ’انڈر گارمینٹس سے لے کر ہر قسم کے کپڑوں تک تمام اشیاء سستے داموں اور ایک ہی جگہ پر اس بازار میں دستیاب ہیں۔ خواتین کے اس بازار میں ہر دوکان پر عورت دوکاندار تو موجود ہیں لیکن ان میں سے کئی نقاب پوش ہوکر اپنا کاروبار کرتی ہیں۔ انڈر گارمینٹس، کی ایک دوکان پر بغیر نقاب کے بیٹھی ہوئیں شمیم اختر نے بتایا کہ ان کے میاں کی تنخواہ کم ہے اور وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ ہر ہفتے میں تین دن دوکان چلاتی ہیں۔ جس سے ان کے گھر کے اخراجات با آسانی پورے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرد گاہکوں کو چیزیں فروخت ہی نہیں کرتیں۔ ثریا انور نامی ایک دوکاندار نے کہا کہ بیشتر خواتین ایسی ہوتی ہیں جو مرد دوکانداروں سے چیزیں خریدنے میں جھجکتی ہیں اور اس بازار کی وجہ سے انہیں خاصی سہولت حاصل ہوگئی ہے۔ بازار میں گھریلو سجاوٹ کی اشیاء بیچنے والی ایک نقاب پوش خاتون سے جب بات کرنا چاہی تو انہوں نے انکار کردیا اور تصویر بنانے سے بھی یہ کہہ کر روک دیا کہ ان کے شوہر کی انہیں اجازت حاصل نہیں ہے۔ اس بازار میں ’فاسٹ فوڈ، کی دوکان چلانے والی مسز ریاض نے کہا کہ جب تک خواتین آگے نہیں بڑھیں گی یہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اگر خواتین پارلیمان کی رکن بن سکتی ہیں یا پولیس سمیت دیگر شعبوں میں جاسکتی ہیں تو کاروبار کرنے میں کیا حرج ہے؟
خواتین کے کپڑوں کی دوکان پر کھڑیں فوزیہ نے بتایا کہ وہ اس بازار میں مستقل آتی ہیں اور اپنی ضروریات زندگی کی چیزیں خریدتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ ماسٹرز کر رہی ہیں اور ایک ہاسٹل میں رہائش پذیر ہیں۔ ایک اور خاتون خریدار الماس نے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ مرد دوکانداروں کی نسبت وہ با آسانی خواتین دوکانداروں سے ’بارگین، کر کے چیزیں خریدتی ہیں۔ ان کے مطابق مرد دوکانداروں کی نسبت خواتین دوکاندار بہتر ہیں کیونکہ وہ صرف اپنے کام سے کام رکھتی ہیں اور ادھر ادھر کی باتیں نہیں کرتیں۔ ہر ہفتے میں اتوار، منگل اور جمعہ کے روز سرکاری طور پر لگائے جانے والے اس بازار کے انسپیکٹر محمد ظہور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بازار لگانے کا بنیادی مقصد عام لوگوں کو ضروریات زندگی کی تمام اشیاء سستے داموں ایک ہی جگہ دستیاب کرنا ہے۔ ان کے مطابق ہفتے میں تین روز تازہ پھل اور سبزیوں سے لے کر موسم کے اعتبار کے کپڑوں، قالین، برتن، جوتوں کے علاوہ استعمال شدہ کپڑے، بستے اور پرس وغیرہ بھی یہاں فروخت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بازار میں پچیس سو سے زیادہ دکانیں ہیں اور ایک محطاط اندازے کے مطابق ایک دن میں پچاس ہزار سے زیادہ خریدار آتے ہیں۔ محمد ظہور نے بتایا کہ ’کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی، یعنی ’سی ڈی اے، کے زیرانتظام لگائے جانے والے اس بازار میں فی دوکاندار سے یومیہ ساٹھ روپے وصول کیےے جاتے ہیں۔ ہفتہ وار بازار میں پرانے کپڑوں کی بھی کئی دکانیں ہیں جہاں غیر ملکی خریدار بھی آتے ہیں۔ واضح رہے کہ ماضی میں مختلف شہروں میں عید کے مواقع پر ’مینا بازار، لگائے جاتے تھے جو خواتین کے لیے مخصوص ہوتے تھے اور کسی مرد کو داخل نہیں ہونے دیا جاتا تھا۔ اسلام آباد میں لگائے جانے والے خواتین کا اپنی نوعیت کے اس منفرد بازار میں زیادہ تر خواتین دوکاندار غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہیں اور خریدار عورتیں بھی کم آمدن والی ہی آتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||