’ایم ایم اے‘ : ایک بار پھر اختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے دوران مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’متحدہ مجلس عمل‘ یعنی ’ایم ایم اے‘ کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی کم از کم پندرہ یونین کونسلز میں اس اتحاد کی مختلف جماعتوں کے امیدوار ایک دوسرے کے مد مقابل ڈٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ اختلافات زیادہ تر پشتون آبادی والے علاقوں کے حلقوں میں پائے جاتے ہیں۔ پشتون قوم پرست رہنما محمود خان اچکزئی کے بقول کہ پشتو بولنے والے پشاور سے زیادہ کراچی میں رہتے ہیں اور کراچی کے پشتونوں کا ووٹ بھی اس بار تقسیم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ پشتو بولنے والے علاقوں میں جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کے امیدواروں کے مد مقابل آنے کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اپنے حامی امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ جمیعت علماء اسلام (ف) کے رہنما قاری سیف اللہ کی رائے اپنی اتحادی جماعت کے رہنما ڈاکٹر معراج سے خاصی مختلف ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں لوگوں کو اچھا پیغام نہیں ملے گا اور ان کے مخالفین کو اس سے فائدہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی حلقوں میں ’ایم ایم اے‘ کی جماعتوں کے امیدوار ایک دوسرے کے سامنے آگئے ہیں اور وہ اسے اختلافات کے بجائے کمزوری سمجہتے ہیں۔ حزب اختلاف کے ایک اور اتحاد ’اے آر ڈی‘ اور جماعت اسلامی کے درمیان کچھ نشستوں پر سمجھوتے کے بارے میں قاری سیف اللہ کہتے ہیں کہ وہ جماعت کا انفرادی فیصلہ ہے اور متحدہ مجلس عمل کا اس سے تعلق نہیں۔ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی ایک اور جماعت، جمعیت علما پاکستان کے رہنما حافظ تقی کا کہنا ہے کہ پہلے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی حصہ لیتی تھی اور جے یو آئی پہلی مرتبہ آئی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایک ہی اتحاد کی جماعتوں کے امیدواروں کا ایک دوسرے کے مدمقابل آنے مخالف امیدوراوں کو فائدہ ہوگا۔ ایسی صورتحال میں بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر جماعت اسلامی کی گرفت کمزور نظر آتی ہے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے امیدوار ہی کراچی کے سٹی ناظم رہ چکے ہیں اور اب اس عہدے کے لیے ان کی امیدیں بظاہر دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔ متحدہ مجلس عمل میں زیادہ تر اختلافات دو بڑی مذہبی جماعتوں، جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام (فضل الرحمٰن) کے درمیان پائے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے کراچی کے سٹی ناظم نعمت اللہ خان کو ایک سو اٹھہتر میں سے اٹھہتر یونین کونسلز کے ناظمین کی حمایت حاصل تھی، جس میں تریسٹھ کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔ سٹی ڈسٹرکٹ کراچی میں کل اٹھارہ ٹاؤن ہیں جن میں سے دس ٹائون میں ناظمین جماعت اسلامی کے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||