BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 August, 2005, 16:19 GMT 21:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپریم کورٹ جانے کی تیاری

الیکشن کمشن
الیکشن کمیشن مدارس کی اسناد کے حق میں فیصلہ دے چکا ہے۔
پاکستان کے اسلامی مدارس نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کی تیاری شروع کر دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دینی مدارس کی اسناد میٹرک کے مساوی نہیں ہیں۔

پاکستان کے دینی مدارس کے منتظمین اور چھ دینی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے چند حکومتی ادارے دینی مدرسوں کے کی ڈگریوں کو میٹرک، انٹر، بی اے اور ایم اے کے برابر قرار دے چکے ہیں۔

جماعت اسلامی کے ہیڈکواٹر منصورہ کی مسجد میں مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’ لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ سرحد ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے متصادم ہے جو دینی مدارس کی ڈگریوں کو تسلیم کرنے کے حق میں دیا گیا تھا۔‘

ان کاموقف ہے کہ اس کے علاوہ یونیورسٹی گرانٹس کمشن نے بھی دینی مدرسوں کی ڈگریوں کو برابر قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’دینی مدرسے لازمی طور پر اس فیصلے کے خلاف برتر عدالت میں جائیں گے کیونکہ یہ حکومتی اداروں کے فیصلوں کے برعکس نیا فیصلہ سامنے آیا ہے۔‘

ملک کے بیشتر مدرسوں کے ادارے تنظیمات المدارس کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالمالک نے کہا کہ ’وہ اس فیصلے کو رد کرانے کے لیے سپریم کورٹ جائیں گے کیونکہ ان کے بقول اس سے پہلے الیکشن کمیشن بھی دینی مدرسوں کی ڈگریوں کو میڑک، انٹر، بی اے اور ایم اے کے برابر قرار دے چکا ہے۔‘

قانون کے تحت بلدیاتی انتخابات کے امیدوار کے لیے کم از کم میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے کل اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ دینی مدرسوں کی سندیں اس وقت تک میڑک کے مساوی نہیں ہیں جب تک طالبعلم کسی سرکاری سیکنڈری بورڈ سے انگلش ، اردو اور مطالعہ پاکستان کے مضامین کے امتحانات پاس نہیں کر لیتا۔

دینی مدرسوں کے منتظمین نے ایک طرف سپریم کورٹ میں جانے کے لیے صلاح مشورے شروع کر دیے ہیں تو دوسری طرف یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ آئندہ مدرسوں میں میڑک کا نصاب بھی پڑھایا جائے گا۔

مجلس عمل کے بیشتر اراکین قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی دینی مدرسوں کی ڈگریوں کے حامل ہیں اور انہی کی بنیاد پر انہوں نے گزشتہ قومی انتخابات میں بھی حصہ لیا تھاجبکہ قانون کے مطابق کم از کم بی اے پاس شخص ہی قومی یاصوبائی اسمبلی کا رکن ہوسکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد