مقامی انتخابات: ڈھائی لاکھ امیدوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اٹھارہ اور پچیس اگست کو دو مرحلوں میں ہونے والے مقامی انتخابات کے لیے ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ مقامی انتخابات میں عورتوں کی نشستوں کے لیے ملک گیر معلوماتی مہم چلانے والی غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے مطابق ملک کے ایک سو دس ضلعوں میں چھ ہزار ایک سو اٹھائیس یونین کونسلوں کی اناسی ہزار چھ سو چونسٹھ نشستوں کے لیے دو لاکھ چھیاسٹھ ہزار چار سو ستائیس افرادنے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ یوں ابتدائی طور پر فی نشست تین اعشاریہ تین امیدوار سامنے آئے ہیں۔ تاہم کاغذات نامزدگی واپس لیے جانے اور مسترد کیے جانے کے بعد امیدواروں کی حتمی تعداد اس سے کم ہوسکتی ہے۔ پنجاب میں تین ہزار چار سو چونسٹھ یونین کونسلوں کی پینتالیس ہزار بتیس نشستیں ہیں۔ یہاں پر کل ایک لاکھ پچپن ہزار سات سو تینتیس کاغذات جمع کرائے گئے۔ سندھ میں ایک ہزار ایک سو دس یونین کونسلوں کی چودہ ہزار چار سو تیس نشستیں ہیں۔ یہاں پر انچاس ہزار آٹھ سو اکتالیس کاغذات جمع کرائے گئے۔ صوبہ سرحد میں نو سو ستاسی یونین کونسلوں کی بارہ ہزار آٹھ سو ستاسی نشستیں ہیں۔ یہاں پر انتالیس ہزار آٹھ سو ستاسی کاغذات جمع کرائے گئے۔ بلوچستان میں پانچ سو سڑسٹھ یونین کونسلوں کی سات ہزار تین سو اکہتر نشستیں ہیں۔یہاں پر بیس ہزار نو سو چھیاسٹھ کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے۔ عورت فاؤنڈیشن کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی انتخابات کے پہلے مرحلہ میں پنجاب کے سترہ ضلعوں میں ستتر ناظم اور نائب ناظموں سمیت پندرہ سو انتالیس امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ عورتوں اور اقلیتوں کی چار سو ساٹھ نستوں پر کسی امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے اور یہ نشستیں خالی رہ گئی ہیں۔ پہلے مرحلہ کے لیے پنجاب سے چھ ہزار چار سو بہتر امیدواروں نے اپنے کاغذات واپس لے لیے۔ یونین کونسلوں کے لیے منتخب ہونے والے تقریباً اسی ہزار کونسلرز، ناظم اور نائب ناظم انتیس ستمبر کو مقامی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلہ میں تحصیل کونسلوں اور ضلع کونسلوں کے ناظموں اور نائب ناظموں کا انتخاب کریں گے۔ مقامی حکومتوں کا موجودہ نظام قومی تعمیر نو بیورو کے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے منصوبہ کے تحت سنہ دو ہزار ایک میں قائم ہوا تھا۔ تاہم اس بار مقامی حکومتوں کے قانون میں ہر صوبہ نے نئی ترامیم کرکے یونین کونسل میں ارکان کی تعداد اکیس سے کم کرکے تیرہ کردی ہے جبکہ صوبہ کے وزیراعلی کو مقامی حکومتوں پر وسیع انتظامی اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||