BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 December, 2004, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنسی زیادتی:’ کڑوا سچ قبول کریں‘
 بچے
’نوّے فیصد مدرسوں میں غلط کام نہیں ہوتا‘
پاکستان کے مذہبی امور کے وزیرِ مملکت عامر لیاقت حسین نےایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ مذہبی مدرسوں میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد ہوتا ہے۔

عامر لیاقت نے بتایا کہ اس برس ملاؤں کے خلاف جنسی تشدد کی قریباً پانچ سو شکایات درج ہوئیں۔

وزیرِ مملکت نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ برس اس قسم کی دو ہزار شکایات سامنے آئی تھیں مگر ابھی تک کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا کام کیا ہے اور انکا ضمیرمطمئن ہے۔انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ لوگ بچوں پر جنسی تشدد جیسے کڑوے سچ کو قبول کر لیں۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ ملک کےمدارس کی ایک بہت قلیل تعداد اس فعل میں ملوث ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مدارس علم و آگہی کا مرکز ہیں اور وہاں اسلام کی روشنی موجود ہے البتہ چند کالی بھیڑیں مدارس کے نام کو داغدار کر ہی ہیں۔

عامر لیاقت نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے کسی بیان میں کہا ہے کہ مدارس کی وجہ سے ایڈز میں اضافہ ہوا ہے۔

عامر لیاقت کے اس بیان پر اسمبلی میں بھی خاصی ہنگامہ آرائی ہوئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے ان سے معاقی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جنسی زیادتی سے متعلق یہ انکشافات اس وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت مذہبی رہنماؤں سے ایڈز اور ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی کے پھیلاؤ کے سلسلے میں ملاقاتیں کر رہی ہے۔

حکومتِ پاکستان ایڈز سے آگاہی کی مہم میں علماء کو شریک کرنا چاہتی ہے تا کہ عام آدمی تک یہ پیغام پہنچ سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد