دینی مدارس، ہیجڑے اور ایڈز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر مملکت برائے مذہبی امور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ ملک میں ایڈز پھیلانے میں بعض دینی مدارس اور ہیجڑوں کا بھی کردار ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کے روز اسلام آباد میں ایڈز کے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے تیار کردہ ’انفو کٹ، کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جس پر تقریب میں موجود بعض علماء اور اسلامی سوچ رکھنے والے لوگوں نے سخت احتجاج کیا۔ وزیر کا کہنا تھا کہ یہ حقیقیت ہے کہ کچھ دینی تعلیم کے مدارس میں جنسی تشدد ہوتا ہے اور اس ضمن میں اخبارات میں خبریں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے ایک مدرسے میں جنسی تشدد کا ایک واقعہ انہوں نے خود پکڑا تھا۔ انہوں نے تقریب میں موجود علماء کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ حقائق کو چھپانا نہیں چاہیے بلکہ ان کا سامنا کرنا چاہیے اور وہ ایڈز کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔ وزیر نے کہا کہ دیہی علاقوں میں ہیجڑوں کو لوگ جنسی مقاصد کے ساتھ دیگر تفریحی کاموں میں استعمال کرتے ہیں اور وہ بھی ایڈز پھیلانے کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موذی مرض سے بچنے کے لیے سب کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے شریک حیات تک محدود رہنا چاہیے اور جنسی برائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ اس موقع پر جاری کردہ ’ کٹ‘ میں بعض پمفلٹ بھی دیے گئے جس میں ایڈز سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے ساتھ اس مرض کے پھیلنے کے طریقوں اور وجوہات کے بارے میں بھی مفصل معلومات دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں ایشیا میں خواتین اور لڑکیوں میں ایڈز کے تیزی سے پھیلنے کے بارے میں عالمی کانفرنس اسلام آباد میں ہوئی تھی۔ جس میں ملک بھر میں عام لوگوں کو آگاہی دینے کے لیے مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ پاکستان میں ایڈز پھیلنے کی شرح دیگر ممالک کی نسبت خاصی کم ہے لیکن ماہرین کے مطابق بڑی آبادی کا ملک ہونے کے باعث خطرہ بہت بڑا ہے۔ ایشیا میں آٹھ لاکھ لوگ اس موذی مرض میں مبتلا ہیں جس میں سے پانچ لاکھ مریض صرف پڑوسی ملک بھارت میں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||