پاکستان: ایڈز سنٹرز کا قیام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایچ آئی وی، ایڈز، تپ دق اور ہیپاٹائٹس بی اور سی میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافے کے باعث وزارت صحت نے میری سٹروپس سوسائٹی کے تعاون سے ان امراض سے متعلق مشاورت فراہم کرنے کے لیے ملک بھر میں رضا کارانہ خدمات کی بنیادوں پر پندرہ کونسلنگ سینٹرز کھولنے کا اعادہ کیا ہے۔ اس ضمن میں کراچی میں دو اور ملک کے دیگر شہروں میں ایسے تیرہ سنٹر قائم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کا آغاز دسمبر سے کر دیا جائے گا۔ اس چار سالہ منصوبے کا فیصلہ جی ایٹ ممالک کی ایما پر کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ عالمی سطح پر ایچ آئی وی، ایڈز ، تپ دق، ہیپاٹائٹس بی اور سی کے لیے قائم کردہ فنڈ سے پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔ اس بات کا اعلان میری سٹروپس کی جانب سے ایچ آئی وی اور ایڈز کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر غوری نے کیا۔ اس سلسلے میں دو سینٹر کراچی میں اور باقی حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ ، ملتان، کوئٹہ، پشاور، ایبٹ آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی اور لاہور میں قائم کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ مقامی سطح پر سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔ سولہ میں سےنو سینٹر پبلک سیکٹر ہسپتالوں میں قائم کیے جائیں گے جبکہ دیگر سنٹر نجی سطح پر تعمیر کیے جائیں گے۔
اس منصوبے کے تحت نہ صرف ایسے افراد اور ان کے گھر والوں کو مشاورت فراہم کی جا سکے گی جو ایچ آئی وی اور ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں بلکہ ٹرک ڈرائیوروں، نوجوان طبقے، صنعتی اداروں میں کام کرنے والے مزدور اور جنسی امراض کا شکار افراد بھی ان مشاورتی سنٹروں سے رہنمائی حاصل کر سکیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد ان تین موذی امراض کے باعث موت کاشکار ہو رہے ہیں جن میں سے تیس لاکھ صرف ایچ آئی وی اور ایڈز کا شکار ہوتے ہیں جبکہ عالمی سطح پر یومیہ چودہ ہزار لوگ ایچ آئی وی اور ایڈز کے جراثیم سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس منصوبے کا فیصلہ کراچی میں جنوری دو ہزار چار سے نومبر دو ہزار چار کے دوران دو سو افراد کے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر غوری کا کہنا تھا اس دوران انجیکشن کے زریعے نشہ کرنے والوں کی تعداد میں کراچی میں آٹھ اعشاریعہ دو فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ دو ہزار تین میں شہر میں ایک بھی ایسا کیس نہیں سامنے آیا تھا۔ کراچی میں قائم جناح پوسٹ میڈیکل گریجویٹ سنٹر میں بلڈ بنک کے انچارج ڈاکٹر مجیب کے مطابق کراچی شہر کی چار سے چھ فیصد آبادی ہیپاٹائیٹس بی کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیپاٹائیٹس بی میں زیادہ تر وہ افراد مبتلا ہو رہے ہیں جو تلاش روزگار میں کراچی آتے ہیں اور نا قص غذا اور ذریعہ معاش کی عدم فراہمی کا شکار ہو تے ہیں۔ ان میں زیادہ تر سندھی، سرائیکی اور بلوچ قوم کے افراد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فی شخص کے حساب سے ایک آدمی سالانہ نشے کے نو انجیکشن لیتا ہے جو دنیا بھر میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ جبکہ جے پی ایم سی میں سینے کے امراض سے متعلق شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ندیم رضوی کے بقول پاکستان میں سالانہ تپ دق سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین لاکھ پچاس ہزار ہے۔ جن میں بیشتر کی عمر پندرہ سے چون برس کے درمیان ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||