BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 September, 2004, 15:07 GMT 20:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا:ایڈز کے 50 لاکھ مریض

News image
ہندوستان کی حکومت مہلک بیماری ایڈز کے مریضوں کی صحیح تعداد جاننے کے لیے پرائیوٹ کمپنیوں کی مدد لے رہی ہے۔

ہندوستان میں ایڈز کی روک تھام کے لیے قائم کیے گئے ادارے’ ناکو‘ کے تخمینے کے مطابق ملک میں تقریبا 51 لاکھ یا 5.1 ملین افرادایڈز یا ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔ لیکن اس شعبے میں کام کرنے والی بعض تنظیموں کا خیال ہے کہ متاثرہ افراد کی صحیح تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ایڈز ، ملیریا اور ٹی بی کی روک تھام کے عالمی ادارے کے سربراہ رچرڑ فیچم نے حال میں نئی دلي میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ہندوستان میں ایڈز کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے ۔ انھوں نے موجودہ صورتحال کو ’ٹائم بم‘ سے تعبیر کیاتھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب جب کہ حکومت نے پرائیوٹ اداروں سے صحیح صورتحال کے تجزیہ کا فیصلہ کیا ہے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سرکاری ادارے نے جو اعدادوشمار جاری کیے تھے وہ بظاہر حقیقت سے کم ہیں۔

دو برس قبل اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے متنبہ کیا تھا کہ اگر فوری طور پر ہنگامی اقدامات نہ کیے گۓ تو 2010 تک ایڈز اور ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد دو کروڑ سے ڈھائی کروڑ تک پہنچ سکتی ہے ۔

حکومت نے صحیح صورتحال جاننے کے لۓ ملک اور بیرون ملک کی سرکردہ تجزیاتی کمپنیوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔ تاہم صحت کے وزیر اے رام داس کا کہنا ہے کہ کسی طرح کی گھبراہٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

ہندوستان کی وزرات صحت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2033 تک 55 لاکھ افراد ایسے ہونگے جو پوری طرح سے ایڈز کی مہلک بیماری کی زد میں ہونگے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ یہ بیماری اب شادی شدہ خواتین میں پھیل رہی ہے ۔ملک کے روایتی سماجی نظام میں خواتین جنسی برتاؤ میں اپنے خاوند سے کچھ کہہ نہیں پاتیں اور مرد سیکس کے دوران احتیاطی اقدامات سے گریز کرتے ہیں۔

ملک میں 86 فیصد ایچ آئی وی کی بیماری غیرمحفوظ سیکس کے ذریعے ہی پھیل رہی ہے ۔ حکومت اپنی ساری توانائی اور فنڈ احتیاطی اقدامات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے پر صرف کرتی ہے اس کے باوجود بالغوں کی صرف 59 فیصد آبادی ہی کنڈوم اور دیگر مانع حمل طریقوں کے بارے میں واقفیت رکھتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد