BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 December, 2004, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صوبہ سندھ ایڈز سے زیادہ متاثر‘

ایڈز ایک عالمی خطرے کی حیثیت سے ابھر رہا ہے
ایڈز ایک عالمی خطرے کی حیثیت سے ابھر رہا ہے
یکم دسمبر کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ایچ آئی وی اور ایڈز کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریض صوبہ سندھ میں پائے جاتے ہیں۔

سندھ کے لیے پروگرام منیجر برائے ایڈز کنٹرول ڈاکٹر سر چند اوچھانی کے مطابق سندھ بھر میں نو سو چھہتر ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے ایک سو دو میں باقاعدہ ایڈز کی شناخت کی جا سکی ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی غیر صحتمندانہ جنسی سرگرمیاں ہیں۔ اس کے علاوہ نشہ آور اشیاء کے استعمال میں سونگھنے والے نشے کے رجحان کے برعکس منتقل ہوتا ہواانجیکشن کے ذریعے کیے جانے والے نشے کا رجحان ہے۔

ڈاکٹر اوچھانی کےمطابق اس وقت سندھ میں پچیس سے تیس ہزار افراد ایسے ہیں جو انجیکشن کے زریعے نشہ آور اشیاء کا استعمال کر رہے ہیں۔ اور اس پر مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ تمام افراد ایک دوسرے سے سرنجوں اور سوئیوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ گروپوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے ساتھ نشہ کرتے اور جنس کا کاروبار بھی کرتے ہیں۔

صوبہ سندھ میں اس تعداد میں سب سے زیادہ اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں افغان پناہ گزینوں کی حد درجہ آبادی بھی ہے جس سے نہ صرف کراچی بلکہ پورے صوبے میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے مرض نے زور پکڑا ہے۔

اس کے علاوہ ٹرک ڈرائیوروں، غیر قانونی تارکین وطن افراد، مزدور طبقے اور جیل کے قیدیوں میں بھی جنسی صحبت کے غیر صحتمندانہ رجحان کے باعث سندھ اس موذی مرض کی لپیٹ میں آتا جا رہا ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس سال اکتیس اکتوبر تک انجیکشن کے ذریعے نشہ کرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار پانچ سو دس تھی جبکہ ان میں سے تین سو پندرہ ایچ آئی وی میں مبتلا ہیں۔

جون سن دو ہزار تین میں سندھ میں انجیکشن کے ذریعے نشہ کرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد کا لاڑکانہ میں پتہ لگایا گیا تھا۔ اور اس وقت کراچی کے بعد لاڑکانہ میں بھی انجیکشن کے ذریعے نشہ کرنے والوں میں ایچ آئی وی کا خدشہ ایک وبا کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جس کیلئے سرکاری سطح پر ہنگامی احتیاطی اقدامات کی ضرورت ہے۔

صوبائی سیکٹری ہیلتھ نوشاد شیخ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات سے لگتا ہے کہ آئندہ دس برسوں میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے جراثیم لوگوں کے خون میں بھی پائے جانے لگیں گے اس لیے خون کی سکریننگ بھی اس خطرے سے بچنے کے لیے اہم ہے۔

یاد رہے کہ سندھ کے لیے ایچ آئی وی اور ایڈز کنٹرول پروگرام عالمی بینک کے تعاون سے گزشتہ برس نومبر میں شروع کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد