ایڈز: آگاہی کی ضرورت ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایڈز کے متعلق ہونے والی تین روزہ عالمی کانفرنس میں منگل کے روز مقررین نے زور دیا کہ وقت آگیا ہے کہ ایڈز جیسے موذی مرض سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں اور عام لوگوں کو احتیاطی تدابیر کے بارے میں معلومات پہنچائی جائیں۔ پیر کے روز سے شروع ہونے والی یہ کانفرنس ایشیا یا اسلامی دنیا کے کسی ملک میں ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس ہے۔ ایشیا بحرالکاہل کے ممالک سے بیسیوں مندوبین اس کانفرنس میں شریک ہیں جس میں خواتین بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ منگل کے روز خواتین جنسی کارکنوں، منشیات کے استعمال، عورتوں کی سمگلنگ، تعلیم کے ذریعے ایڈز کا پھیلاؤ روکنے کے موضاعات پر چھ ورکشاپ ہوئے۔ پاکستان میں عالمی نوعیت کی کانفرنس میں ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ خواتین میں ایڈز یا جنسی تعلقات کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کے معاملے پر خواتین ، مذہبی رہنماء اور دیگر لوگ کھل کر اپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔ ملائیشیا سے آئی ہوئی خاتون خرطینی سلمہ کا سیکس ورکرز کے متعلق ورکشاپ سے خطاب میں کہنا تھا کہ جنسی کام ختم نہیں کیا جاسکتا، ہمیں لازمی طور پر تسلیم کرنا ہوگا کہ جنسی کارکن یعنی ’سیکس ورکر، بھی انسان ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کو سلائی مشینوں کی ضرورت نہیں بلکہ معاشرے میں مردوں کے برابر مواقع چاہیے۔ پیر کے روز کانفرنس سے افتتاحی خطاب میں وزیراعظم شوکت عزیزنے کہا تھا کہ (ایڈز) ایچ آئی وی، ایک خطرناک اور موذی مرض ہے جس کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ ایڈز کے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ڈاکٹر نفیس صادق نے ایڈز کے متعلق دنیا بھر، بالخصوص ایشیا پیسیفک کے ممالک میں اس مرض میں مبتلا لوگوں کے اعداد و شمار بتائے اور فوری احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ایڈز کے مرض کو انسانیت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بحرالکاہل کے ممالک میں اسی لاکھ لوگ ایچ آئی وی، میں مبتلا ہیں، جس میں سے پچاس لاکھ لوگ صرف اکیلے ملک بھارت میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق اس خطے میں ہر سال پانچ لاکھ لوگ اس مرض کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرض خواتین اور لڑکیوں میں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی روک تھام کا آج وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ کے جن ممالک میں یہ مرض پھیلا ہے اس سے نہ صرف ان ممالک کی اقتصادیات متاثر ہوئی بلکہ معاشرتی اقدار بھی تباہ ہوئیں اور یہی کچھ ایشیا پیسیفک میں بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے آئندہ دس برس کے دوران انتہائی احتیاط اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایڈز اور ایچ آئی وی، کی وجہ سے خطے کی معیشت پر ساڑھے سات ارب ڈالر کا بوجھ پڑا۔ ان کے مطابق سن دوہزار تین میں اس مرض سے بچاؤ کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم کی ضرورت تھی لیکن پورے خطے کی حکومتیں اور امدادی ادارے بمشکل بیس کروڑ ڈالر جمع کر سکے۔ انہوں نے کہا ایشیا میں دنیا کی کل آبادی کا ساٹھ فیصد آبادی رہتی ہے اور ایشیا میں بالخصوص بھارت میں یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے جسے روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے تمام ممالک کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کریں۔ وزیر صحت ناصر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس’تبدیلی کے لیے اسلام آباد کا ایجنڈ ا، تیار کرے گی جس پر عمل کرکے ہم اس موذی مرض سے بچاؤ کے اقدامات کر سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سن ستاسی میں ایڈز کا پہلا کیس پاکستان کے شہر لاہور میں سامنے آیا جبکہ اس مرض میں مبتلا کسی ماں سے نوزائیدہ بچے میں اس بیماری کی منتقلی کا پہلا کیس سن ترانوے کے دوران راولپنڈی میں ظاہر ہوا۔ منشیات کے عادی افراد، جنسی کارکنوں اور جیل میں بند قیدیوں میں یہ مرض پیدا ہوا۔ ان کے مطابق پاکستان میں ایڈز کی شرح تو کم ہے لیکن خطرہ بہت بڑا ہے کیونکہ ساڑھے چودہ کروڑ آبادی کا یہ ملک ہے، اس لیے بڑے پیمانے پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی۔ تقریب کے دوران دو خواتین جنہیں یہ مرض لاحق ہے وہ ایک کتبہ اٹھائے کھڑی رہیں جس پر لکھا ہوا تھا کہ’ ہم ایڈز سے بچاؤ کی ویکسین کی منتظر ہیں،۔ ایک خاتون شکریہ گل نے بتایا کہ دو شادیاں کرنے سے انہیں یہ مرض لاحق ہوا جس وجہ سے انہیں معاشرے میں دشورای پیش آتی ہے۔ ان کے مطابق عام آدمیوں کے علاوہ بعض ڈاکٹروں کا بھی رویہ ان کے متعلق منفی ہوگیا۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اس مرض کے بارے میں عام لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے وہ کام کر رہی ہیں، تا کہ اور لوگ اس مرض بچ سکیں۔ یہ کانفرنس یکم دسمبر کو اختتام پر اپنی سفارشات اور لائحہ عمل مرتب کرے گی۔ کانفرنس میں مختلف ممالک سے تین سو مندوبیں شرکت کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||