’خواتین کو بااختیار بنائیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایڈز/ ایچ آئی وی، کے موذی مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے خواتین کو سیاسی، اقتصادی اور سماجی طور پر بااختیار بنایا جائے، ان کے خلاف تشدد کو روکنے کے اقدامات اٹھائے جائیں اور تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کو جنسی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات دی جائیں۔ یہ مطالبہ بدھ کے روز ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر اسلام آباد میں ختم ہونے والی تین روزہ عالمی ایڈز کانفرنس میں اتفاق رائے سے مرتب کی گئیں سفارشات میں کیا گیا ہے۔ یہ سفارشات اب بحث کے لیے پیش کی جائیں گی اور انہیں حتمی شکل دے کر اقوام متحدہ کے ایڈز کے بارے میں ادارے کے بورڈ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ بحرالکاہل کے ممالک میں خواتین اور لڑکیوں میں ایڈز کے موضوع پر ہونے والی اس کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام صدر محمد میاں سومرو نے کہا کہ ایڈز کے خلاف لڑائی میں کامیابی کے لیے خواتین کو بنیادی انسانی حقوق لازمی طور پر دینے ہوں گے۔ کانفرنس کے خاتمے کے بعد پریس کانفرنس بھی ہوئی جس سے وزیر صحت ڈاکٹر نصیر خان، ایڈز کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ڈاکٹر نفیس صادق اور عالمی امدادی اداروں کے نمائندوں کے علاوہ بحرالکاہل کے ممالک سے آئے ہوئے وفود شریک ہوئے۔ جس میں خواتین بھی خاصی تعداد میں شامل تھیں۔ سفارشات میں زور دیا گیا ہے کہ عام لوگوں کو وسیع پیمانے پر معلومات فراہم کرنے کے خصوصی مہم چلائی جائے۔ حکومت، سماجی ادارے اور باشعور لوگ اپنے خاندان اور عام آدمیوں کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کریں۔ کانفرنس میں وزیر صحت نے کہا کہ ایڈز کالے سانپ کی طرح ہے جو پورے جسم کو جکڑ لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض سے متعلق بات کرنے کا مقصد عریاں ہونا نہیں بلکہ اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بھائیوں کو تعلیم دینا اور مرض سے بچنے کی ترغیب دینا ہے۔ ان کے مطابق ایڈز کا بہترین علاج احتیاط ہے۔ مقررین نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے ان پر زور دیا کہ ایڈز کے بارے میں عام لوگوں کو میڈیا مطلع کرسکتا ہے جس کے لیے انہیں خصوصی پروگرام شروع کرنے چاہیے۔ مندوبین نے جنسی عوامل، سرنج یا سوئی کے استعمال، حجام کی دوکانوں پر ایک بلیڈ سے صرف ایک شیو یقینی بنانے، خون کی محفوظ منتقلی اور ایڈز پھیلانے والے دیگر اسباب اور وجوہات کے متعلق جہاں قانون سازی کرنے پر زور دیا وہاں عام لوگوں کو خود بھی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ نوٹس لیں۔ سفارشات میں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مذہبی رہنماؤں اور علماء پر زور دیا گیا کہ وہ اس مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور وقت آگیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ کانفرنس میں ایڈز/ ایچ آئی وی، میں مبتلا خواتین بھی شریک تھیں، جنہوں نے عام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنا معائنہ کرائیں اور اس مرض کو چھپانے کے بجائے سامنے لائیں۔ مبصرین کی رائے ہے کہ پاکستان میں جنسی معاملات کے بارے میں کھل کر بات کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن اس کانفرنس کا انعقاد موذی مرض سے بچنے کے لیے لوگ میں تحمل سے بات سننے کا مادہ پیدا کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||