’میں ایڈز کے شکار مریضوں کو حوصلہ دینا چاہتی ہوں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرا نام شکریہ گل ہے اور میری عمر چونتیس برس ہے۔ انیس سو نوے میں میری شادی ہوئی تھی۔ میرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے ۔ میرے دو بچے ہیں، تیرہ سالہ بیٹی اور گیارہ سالہ بیٹا۔ انیس سو پچانوے میں میرے میاں کا انتقال ہوا ۔ میرے میاں کافی عرصہ تک ملازمت کے سلسلہ میں کینیا میں رہے تھے جہاں سے انہیں ایڈز کا مرض لاحق ہوا تھا۔ موت سے پہلے وہ لاہور میں ہسپتال میں تھے لیکن انہیں تب یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ ایڈز میں مبتلا ہیں۔ جب میڈیکل ٹیسٹس کی رپورٹ آئی تب میرے میاں کومہ میں تھے اور اسی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا۔ میاں کی تشخیص اور انتقال کے بعد ڈاکٹروں نے مجھے اور بچوں کو ایچ آئی وی ٹیسٹس کرانے کا مشورہ دیا۔ ٹیسٹس سے پتہ چلا کہ میں ایچ آئی وی پوزیٹو تھی اور بچے نیگیٹو۔ مجھے شوہر کی موت کا بے حد صدمہ ہوا اور ساتھ ہی اس مرض کا خوف لاحق ہوگیا کیونکہ اس وقت تک مجھے اس مرض کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں تھا۔ میں نے یہ سن رکھا تھا کہ یہ ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے اور لاعلاج ہے لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مجھے خوف تھا کہ شاید میں زندہ بھی رہوں گی یا نہیں۔ یہ فکر بھی تھی کہ میں بچے پال بھی سکوں گی یا نہیں۔ تشخیص کے بعد ہمارے بارے میں اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی جس کی وجہ سے مجھے اور میرے خاندان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت تک پاکستان میں زیادہ لوگوں کو اس مرض کے بارے میں معلومات نہیں تھیں اس لیے زندگی مشکل ہوگئی۔ مثال کے طور پر لوگوں میں عام تاثر تھا کہ ایچ آئی وی اور ایڈز چھوت چھات کی بیماری ہے۔ مثال کے طور پر اس وقت ہم کرائے کے گھر میں رہ رہی تھی کچھ لوگوں نے گھر کے مالک سے کہا کہ انہیں نکال دے ورنہ اور لوگوں کو بھی یہ مرض لگ جائے گا۔ رشتہ دار اور محلے کے لوگ اس طرح نہیں ملتے تھے جیسے پہلے ملتے تھے۔ لیکن کچھ ایسے عزیز بھی تھے جنہوں نے معاشی اور اخلاقی طور پر بہت مدد کی۔ شوہر کی موت کے بعد بچے پالنے کے لیے سلائی کڑھائی شروع کر دی اور پھر بیوٹیشن کا کورس کیا۔ میں اب بھی یہ کام کرتی ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں نے اس مرض کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا شروع کی۔ اس سلسلے میں میں اسلام آباد میں ادارہ صحت بھی جاتی رہی۔ کراچی میں مرزا علیم بیگ نے میری کافی مدد کی اور رہنمائی کی۔ ان کی مدد سے میں غیر سرکاری اداروں میں تعلقات بنانے میں کامیاب ہوئی۔ میں نے ایچ آئی وی اور ایڈز کے مرض میں مبتلا لوگوں کے لیے کام کرنے اور ان میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ٹریننگ کی اور پھر ماسٹر ٹرینر بن گئی۔ اسی مقصد کے لیے میں نے ایک غیر سرکاری تنظیم بنائی تاکہ ایچ آئی وی وائرس کے شکار لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر ان کو حوصلہ دے سکوں اور انہیں بتا سکوں کہ اس مرض کے ساتھ کیسے زندگی گزارنی ہے۔ اب میں اس مرض میں مبتلا لوگوں کو اچھی زندگی گزارنے کے لیے مشورے دیتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے دونوں بچوں کو بھی اس موذی مرض کے بارے میں شعور حاصل ہو۔ اسی لیے میں اسلام آباد میں ایڈز سے متعلق ہونے والی عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے بچوں کو ساتھ لائی تھی۔ میرا خیال ہے کہ آج کل بہت سے ادارے ایچ آئی وی اور ایڈز سے نمٹنے کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں لیکن وہ صحیح طور پر خرچ نہیں کیے جارہے ۔ اسی طرح بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں کاغذی کارروائی کرتی ہیں اور عملی طور پر کچھ نہیں کرتیں۔ ابھی تک پاکستان میں ایچ آئی وی کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات میسر نہیں ہیں۔ میں امدادی اداروں کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ ایچ آئی وی میں مبتلا لوگوں پر توجہ دیں۔ نوٹ: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||