نتائج جاری نہ کریں: سپریم کورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ دینی مدارس کی اسناد رکھنے والے امیدواروں کے نتائج سرکاری طور پر جاری نہ کریں اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے گذشتہ روز الیکشن کمشن کو تحریری طور پر آگاہ بھی کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس افتخار چودھری ،جسٹس فقیر محمد چودھری اور جسٹس سید سعید اشہد پر مشتمل فل بنچ نے یہ فیصلہ شوکت علی اور چند دوسرے ایسے بلدیاتی امیدواروں کے کیس میں جاری کیا ہے جنہوں نے دینی مدارس کی اسناد کی بنیاد پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے ان امیدواروں نے سپریم کورٹ کے عبوری اجازت پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق مدعیوں سمیت دیگر امیدواروں کے انتخابی نتائج کا سرکاری اعلان عارضی طور پر روک دیا گیا ہے اس مقدمہ کے حتمی فیصلے کے بعد نوٹیفیکشن جاری ہوگا۔ اس کیس کی مزید سماعت الیکشن کے دیگر معاملات کے ہمراہ اب بائیس ستمبر کو ہوگی۔ سپریم کورٹ کا ایک دوسرا فل بنچ یہ حتمی فیصلہ دے چکاہے کہ دینی مدارس کی اسناد کو اس وقت تک میٹرک کے مساوی تسلیم نہیں کیا جائے گا جب تک امیدوار متعلقہ سرکاری بورڈ سے انگریزی، اردو اور مطالعہ پاکستان کے امتحانات پاس نہ کر لے۔ دینی مدارس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی گرانٹس کمشن سمیت مختلف سرکاری ادارے ماضی میں دینی مدارس کی اسناد کو بالترتیب میڑک ، انٹر، بی اے اور ایم اے کے مساوی تسلیم کرتے رہے ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ حالیہ عدالتی فیصلوں کے خلاف اپیل کرنے کے بارے میں قانونی ماہرین سے مشاورت کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||