BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 August, 2005, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فضل الرحمن کی عدالت پرتنقید
مولانا فضل الرحمن
سپریم کورٹ کے جن ججوں نے یہ فیصلہ دیا ہے ان میں سے کئی ججوں نے تو آئین کے تحت حلف بھی نہیں اٹھایا
متحدہ مجلس عمل کے سیکریٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کےحسبہ بل کوغیر آئینی قرار دینے سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ فیصلہ عدالت عظمی کی رائے ہے یا حکم اور اس کا علم تو تفصیلی فیصلہ سامنے آنے پر ہوگا۔

لاہور میں پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئےقائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نےکہا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو چھیاسی کے تحت صدر کسی قانون پر سپریم کورٹ سے صرف رائے لے سکتا ہے لیکن سپریم کورٹ نے تو اپنے فیصلہ میں گورنر کو حسبہ بل پر دستخط کرنے سے بھی روک دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جن ججوں نے یہ فیصلہ دیا ہے ان میں سے کئی ججوں نے تو آئین کے تحت حلف بھی نہیں اٹھایا۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ سپریم کورٹ نےحسبہ بل کو آئین سے متصادم قرار دیا ہے لیکن اس نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو نظر انداز کردیا جو لوگوں کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنا رہا ہے اور لوگوں کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔

انہوں نےکہا کہ سپریم کورٹ نے اس بات کا نوٹس بھی نہیں لیا کہ پرویز مشرف نے صدر اور آرمی چیف کے دو عہدے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور اس بارے میں پارلیمنٹ سے جو قانون منظور کرایا گیا وہ آئین کی روح کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ بات بھی نظر انداز کردی کہ اس نے پرویز مشرف کو تین سال تک اقتدار میں رہنے کا اختیار دیا تھا اور یہ شرط لگائی تھی کہ وہ روز مرہ کے کام کاج کو چلانے کی ضرورت کے سوا کوئی آئینی ترمیم نہیں کریں گے لیکن انہوں نے آئین کو یرغمال بنالیا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ

مولانا فضل الرحمن
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی طلباء کو قانونی تقاضے پورا کرنے کے باوجود ملک بدر کرنا ظالمانہ قدم ہے
غیر ملکی طلباء کو قانونی تقاضے پورا کرنے کے باوجود ملک بدر کرنا ظالمانہ قدم ہے اور ملکی مفاد کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجلس عمل اس فیصلے کےخلاف ملک بھر میں احتجاج کرے گی اور جلسے منعقد کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی طلباء ویزے لے کر یہاں آئے ہیں اور ان کے خلاف ان کے ملکوں میں یا اس ملک میں کوئی مقدمہ نہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک کی جامعات میں بھی غیر ملکی طلبا زیر تعلیم ہیں تو ان کے بارے میں تو ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایاگیا۔

انہوں نے کہا کہ دینی مدرسوں کے خلاف یہ اقدام کس کے کہنے پر کیا جارہا ہے یہ ساری دنیا جانتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دینی مدرسوں کےخلاف مہم کا فائدہ انکی نظر میں صرف بھارت کو ہوگا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس اقدام سے ثابت ہوگیا ہے کہ صدر مشرف کی پالیسیاں انتہا پسندانہ ہیں اور وہ متحدہ مجلس عمل کے خلاف ایک فریق بن چکے ہیں اور دینی حلقوں کے بارے میں مغرب کے الزامات کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن
 غیر ملکی طلباء کو قانونی تقاضے پورا کرنے کے باوجود ملک بدر کرنا ظالمانہ قدم ہے اور ملکی مفاد کے منافی ہے
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں امن قائم ہے تو صرف مدرسوں کی وجہ سے قائم ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مدرسوں سے طلبا کو نکالنے والے بتائیں کہ جو شخص تعلیم سے محروم ہوگا تو وہ ان کے خیال میں کیا کرے گا؟

پنجاب میں دینی مدرسوں کی سند رکھنے والے افراد کی الیکشن کے لیے نااہلی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا جس نے کہا تھا کہ ریٹرننگ افسروں کو دینی مدرسوں سے سند لینے والوں کے کاغذات نامزدگی قبول کرنے کی ہدایات دے دی گئی ہیں اور پنجاب کے سوا تین صوبوں میں ان افراد کے کاغذات نامزدگی قبول بھی کیے گئے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وزیرستان میں امن علما کے کردار کی وجہ سے قائم ہے جس کا اعتراف پشاور کے کور کمانڈر بھی کئی بار کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بتائے کہ فوج کی موجودگی میں قبائلی علاقوں سے لوگ افغانستان یا مانسہرہ کے عسکری کیمپوں میں تربیت لینے کیسے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ کام کسی سویلین کے بس میں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین سال سے وزیرستان میں فوجی کارروائی ہورہی ہے لیکن اس سےحالات مزید خراب ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد