BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 May, 2004, 10:50 GMT 15:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اجلاس میں گرما گرم بحث متوقع

News image
قومی اسمبلی کا اجلاس سوموار کی شام پارلیمینٹ ہاؤس میں شروع ہو رہا ہے جس میں شرکت کے لیے اراکین اسمبلی کی اسلام آباد آمد شروع ہوگئی ہے۔

اجلاس کی کارروائی کے متعلق حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے سرکار اور حزب اختلاف نے علیحدہ علیحدہ پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس بھی سوموار کو چار بجے طلب کر رکھے ہیں۔

حزب اختلاف کے دو بڑے اتحادوں، اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور متحدہ مجلس عمل میں قائد حزب اختلاف کی نامزدگی پر ٹھن گئی ہے اور دونوں بھرپور احتجاج کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

اسمبلی کے اجلاس میں خاصی گہما گہمی کی توقع ہے کیونکہ شہباز شریف کی وطن آمد اور ان کی سعودی عرب واپس روانگی، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے عہدے پر مولانا فضل الرحمٰن کی تقرری، مفتی نظام الدین شامزئی کے قتل اور گزشتہ دنوں ہونے والے بم دھماکوں کے معاملات پر اسمبلی میں حزب اختلاف احتجاج کرے گی۔

سیاسی مبصرین کی رائے میں حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن کو حزب اختلاف کا رہنما نامزد کر کے حزب اختلاف کو تقسیم کر دیا ہے اور اب اس کے اجتماعی احتجاج کی قوت میں کمی دیکھنے میں آئے گی۔

قائد حزب اختلاف کے لئے ایک بڑے سیاسی اتحاد اے آر ڈی کے رہنما مخدوم امین فہیم کا دعویٰ ہے کہ انہیں حزب اختلاف کے 80 اراکین کی حمایت حاصل ہے اور مولانا فضل الرحمٰن کو ان کے بقول 68 اراکین کی حمایت حاصل تھی۔

قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق ’ایوان میں زیادہ اکثریت رکھنے والے رکن اسمبلی کو قائد حزب اختلاف بنایا جا سکتا ہے۔‘ لیکن سپیکر قومی اسمبلی نے اٹھارہ ماہ بعد صوابدیدی اختیارات کے تحت مولانا فضل الرحمٰن کو اس عہدے پر نامزد کیا ہے۔

سرکاری حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ صدر مشرف امین فہیم کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے لیکن انہوں نے دولت مشترکہ کو پاکستان کی رکنیت بحال نہ کرنے کے متعلق جو خط لکھا، اس کے بعد صدر مشرف نے قائد حزب اختلاف کے لیے فضل الرحمٰن کی منظوری دی تھی۔

جبکہ مخدوم امین فہیم کا دعویٰ ہے کہ جنرل مشرف کے چار سالہ دور میں جاری کردہ آئین اور قوانین میں ترامیم کو سترہویں آئینی ترمیم کا بل منظور کر کے تحفظ فراہم کرنے کے عوض یہ عہدہ تحفے میں دیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جنرل مشرف دوست حزب اختلاف رکھنا چاہتے ہیں۔ حکومت اور متحدہ مجلس عمل مخدوم کے ایسے دعووں کی تردید کرتے رہے ہیں۔

سرکار کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس آئندہ ماہ جون کے آخر تک جاری رہے گا جس میں بجٹ پیش ہوگا اور اس پر بحث کے بعد منظور بھی کرایا جائے گا۔

قائد حزب اختلاف کے عہدے پر مولانا فضل الرحمٰن کی نامزدگی کے متعلق اخبارات میں دلچسپ تبصرے اور کارٹون بھی شائع ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد