نہ قاف نہ نون لیگ، بس مسلم لیگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملت پارٹی کی نیشنل کونسل نے پارٹی کے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ میں باقاعدہ شامل ہونے کی منظوری دیتے ہوئے پارٹی کے صدر فاروق لغاری کو تمام اختیارات سونپ دیے ہیں۔ یوں ملت پارٹی کے قیام کے تقریبا چھے سال بعد اس کا باب باقاعدہ طور پر بند ہوگیا ہے۔ منگل کو پارٹی کے صدر فاروق لغاری نے لاہور میں پارٹی کی نیشنل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) میں ضم نہیں ہورہی بلکہ صدر جنرل پرویز مشرف کے کہنے پر ایک نئی جماعت پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہو رہی ہے۔ ملت پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیٹر محمد علی درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ آج نیشنل کونسل کے اجلاس میں اس کے تین سو ستر ارکان کے علاوہ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز نے شرکت کی اور فاروق لغاری کو اختیار دیا کہ وہ ملت پارٹی کے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کریں۔ اس سے پہلے ملت پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کونسل نے پارٹی کے پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ آج نیشنل کونسل نے اس کو منظور کرتے ہوئے اعلان کا اختیار پارٹی کے صدر فاروق لغاری کو دے دیا۔ محمد علی درانی نے کہا کہ اب بدھ کے روز نیشنل الائنس کی نیشنل ایگزیکٹو کونسل اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوگا جس میں ملت پارٹی اور غلام مصطفٰے جتوئی کی نیشنل پیپلز پارٹی اور کچھ دیگر جماعتیں شامل ہیں۔ نیشنل الائنس کے صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ارکان کی تعداد باون ہے۔ ملت پارٹی کے اجلاس میں فاروق لغاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کسی پارٹی میں ضم نہیں ہورہی اور ان کا کسی ق لیگ یا ن لیگ یا ج لیگ سے انضمام نہیں ہورہا بلکہ وہ ایک نئی پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں جس کا نام پاکستان مسلم لیگ ہے اور اس کا منشور وہی ہے جو ملت پارٹی کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملت پارٹی جن اعلیٰ مقاصد کے لیے بنائی گئی تھی پاکستان مسلم لیگ کے بھی وہی مقاصد ہوں گے۔ فاروق لغاری نے اپنی تقریر میں بار بار جنرل پرویز مشرف کا حوالہ دیا اور کہا کہ انہوں نے ملت پارٹی کے مسلم لیگ میں شامل ہونے کا کہا تھا اور انہوں نے ملت پارٹی کی شرائط کو تسلیم کیا تھا۔ فاروق لغاری نے کہا کہ انہوں نے صدر مشرف سے کہا تھا کہ انہیں نئی جماعت میں کوئی عہدہ نہیں چاہئے لیکن ان کی پارٹی کے ورکروں کو اہلیت کے مطابق جائز مقام ملنا چاہئے۔ اس پر جنرل مشرف کا جواب تھا کہ ملت پارٹی کے کارکنوں سے ناانصافی نہیں ہوگی۔ جس طرح فاروق لغاری اپنی تقریر میں بار بار جنرل مشرف کا حوالہ دے رہے تھے اس سے یہ تاثر ابھر رہا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ کے اصل کرتا دھرتا صدر جنرل پرویز مشرف ہیں۔ ملت پارٹی سے پہلے مسلم لیگ کے نواز شریف کے دھڑے کے علاوہ تمام گروپ آپس میں ضم ہونے کا اعلان کرچکے ہیں اور مسلم لیگ(ق) کے چودھری شجاعت حسین کو اپنا صدر تسلیم کرچکے ہیں۔ فاروق لغاری نے وزیراعظم نوازشریف سے اختلافات پر صدر مملکت کے عہدے سے استعفی دینے کے بعد چودہ اگست انیس سو اٹھانوے میں ملت پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ اس سے پہلے وہ پیپلز پارٹی میں شامل تھے جس نے انہیں انیس سو ترانوے کے انتخابات کے بعد صدر منتخب کروایا تھا۔ لغاری نے انیس سو چھیانوے میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برخواست کرتے ہوئے پارلیمان کو تحلیل کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||