مسلم لیگ: عہدوں پر اختلافات برقرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت میں شامل مسلم لیگ کے پانچ دھڑوں اور سندھ ڈیموکریٹک الائنس کے اتحاد کے قیام کا ’پاکستان مسلم لیگ‘ کے نام سے اعلان تو ہوگیا ہے لیکن مرکزی اور صوبائی عہدوں کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔ مسلم لیگ کو قائم ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا ہے لیکن ابھی تک صدر کے علاوہ دیگر عہدیداروں کا فیصلہ نہیں ہوا جس کی وجہ پگاڑہ گروپ کے سینیٹر عبدالرزاق تھیم کے مطابق متحد ہونے والے دھڑوں کے سربراہان اہم عہدوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سینیٹر عبدالرزاق تھیم کا مطالبہ ہے کہ مرکزی چیف آرگنائزر، سینیئر نائب صدر اور جنرل سیکریٹری کے عہدے انہیں ملنے چاہئیں جبکہ ان عہدوں میں سے بعض کا مطالبہ منظور وٹو نے بھی کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں صدر جنرل پرویز مشرف نے اقبال ڈار کے مطابق پیر کی شب متحد ہونے والے دھڑوں کے رہنماؤں کو کھانے کی دعوت پر مدعو کر رکھا ہے۔ اقبال ڈار مسلم لیگ چٹھہ گروپ کے چیف آرگنائیزر تھے لیکن مسلم لیگ کے متحد ہونے کے بعد تمام دھڑوں نے عہدے بھی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی سولہ مئی کو پیرجو گوٹھ جا کر پگاڑہ سے ملے اور انہیں صدر جنرل پرویز مشرف کا پیغام پہنچایا۔ وزیراعظم کے بقول انہیں صدر جنرل مشرف نے متحدہ مسلم لیگ میں شمولیت کے فیصلے پر پیر صاحب کا شکریہ ادا کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ پیر پگاڑہ کا گروپ نئی مسلم لیگ میں شامل ہو چکا ہے لیکن اتوار کے روز وزیراعظم سے ملنے کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے پیر پگاڑہ کا کہنا تھا کہ تمام ضرورت مند اکٹھے ہوئے ہیں اور متحدہ مسلم لیگ انہیں زیادہ دیر چلتے ہوئے دکھائی نہیں دیتی۔ بعض اخبارات میں شائع شدہ خبروں کے مطابق مسلم لیگ سندھ کے صوبائی صدر کا عہدہ فاروق لغاری نے ارباب غلام رحیم کے لئے مانگ رکھا ہے۔ جبکہ سندھ ڈیموکریٹک الائنس کے امتیاز شیخ اور ان کے بھائی مقبول شیخ بھی اس عہدے کے حصول کے لئے سرگرم ہیں۔ سردار فاروق لغاری نے بھی بقول ان کے صدر جنرل مشرف کے کہنے پر متحدہ مسلم لیگ میں نیشنل الائنس کو ضم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور رواں ہفتے میں ان کے انضمام کی رسم ہوگی۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کو اکٹھا کر کے بڑی پارٹی بنانے کی خواہش اور مسلم لیگیوں کی غیر اعلانیہ سرپرستی سے ان قیاص آرائیوں کو تقویت ملتی ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ صدر مشرف رواں سال کے آخر میں آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ کر نئی مسلم لیگ کی قیادت سنبھالیں گے۔ واضع رہے کہ متحدہ مجلس عمل سے معاہدے کے نتیجے میں پارلیمینٹ سے منظور کردہ سترہویں آئینی ترمیم کے مطابق جنرل پرویز مشرف صدر اور آرمی چیف کے عہدوں میں سے ایک عہدہ چھوڑنے کے پابند ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||