مسلم لیگ کا ایک اور جنم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانچ لیگی دھڑوں اور سندھ ڈیموکریٹک الائنس کے انضمام سے ایک نئی جماعت ’پاکستان مسلم لیگ‘ کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔ نئی جماعت کا صدر اتفاق رائے سے چودھری شجاعت کو منتخب کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر عہدیداروں کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ یہ فیصلہ بدھ کو تمام دھڑوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ جنرل کونسل اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے کی۔ مسلم لیگ ضیاء کے رہنما اعجازالحق نے نئی جماعت کے صدر کے عہدے کے لئے چودھری شجاعت حسین کا نام تجویز کیا جس کی تمام دھڑوں کے سربراہان اور نمائندگان نے تائید کی اور جنرل کونسل کے اجلاس سے انہیں بلا مقابلا منتخب ہونے کی قرار داد منظور کی۔ امتیاز شیخ کی سربراہی میں قائم سندھ ڈیموکریٹک الائنس کے علاوہ اس نئی مسلم لیگ میں چودھری شجاعت کی سربراہی میں مسلم لیگ (ق)، پیر پگاڑہ کی مسلم لیگ (فنکشنل) ، حامد ناصر چٹھہ کی مسلم لیگ (جونیجو)، منظور احمد وٹو کی مسلم لیگ (جناح) اور اعجازالحق کی مسلم لیگ ( ضیا) نے اپنی اپنی جماعتیں ختم کر کے شمولیت اختار کی ہے۔ مذکورہ جنرل کونسل اجلاس میں پیر پگاڑہ موجود نہیں تھے تاہم ان کی پارٹی کے صدر نے پارٹی ختم کرنے اور شجاعت کو صدر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ فنکشنل کے سینیٹر عبدالرزاق تھہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے حکمران جماعت سے اختلافات تھے کہ اگر تمام جماعتوں کو ختم کرنا ہے تو مسلم لیگ ( ق) کو بھی ختم کیا جائے لیکن ان کا کہنا تھا کہ جب، ق لیگ نے انکار کیا تو ان کی جماعت نے اعتراض کیا اور بقول ان کے وزیراعظم جمالی کی کوششوں سے آخری وقت پر مسلم لیگ (ق) نے خود کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد پیرپگاڑہ راضی ہوئے اور اس طرح نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ جنرل کونسل کے اجلاس میں نئی جماعت کے دیگر عہدیدار منتخب نہیں ہو سکے جس کی وجہ سابقہ دھڑوں کے رہنماؤں کے درمیان اختلاف رائے بتایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں سینیٹر تھہیم کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے مرکزی چیف آرگنائیزر، سیکریٹری جنرل اور سینئر نائب صدر کے عہدے دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ان کے بقول دیگر دھڑوں نے بھی اہم عہدے مانگے ہیں جس وجہ سے طے ہوا ہے کہ تمام سابق سربراہان وزیراعظم سے مل کر نئے عہدوں پر تقرریاں کریں گے۔
اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون تھری کے ہاکی گراؤ نڈ میں شامیانے لگا کر اجلاس کا اہتمام کیا گیا، شدید گرمی کی وجہ سے رہنماؤں نے مختصر تقاریر کیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج سے مسلم لیگ کے پانچ دھڑے ختم ہوچکے ہیں اور اب صرف اور صرف پاکستان مسلم لیگ ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جس طرح قائد اعظم کی سربراہی میں ایک مسلم لیگ تھی اب بھی اس طرح ایک جماعت ہوگی جس کے صدر چودھری شجاعت حسین ہوں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سن انیس سو ترانوے میں مسلم لیگ کے اتحاد کا انہوں نے بیڑہ اٹھایا تھا جو آج منزل پر پہنچ گیا ہے۔ چودھری شجاعت کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ’جیو اور جینے دو‘ کی پالیسی پر عمل پیرا رہے گی۔ ان کی رائے تھی کہ ان کی جماعت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون جاری رکھے گی تاہم انہوں نے زور دیا کہ اسلام سے دہشت گردی کا تعلق نہ جوڑا جائے۔ شجاعت نے صدر مشرف کی تعریف کی اور ان کی پالیسیوں پر کاربند رہنے کا عزم بھی کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||