متحدہ مسلم لیگ کے انتخابات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کے مدغم ہونے کے بعد متحدہ مسلم لیگ کی جنرل کونسل کا اجلاس بارہ مئی کو اسلام آباد میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے جس میں صدر سمیت تمام مرکزی عہدوں کا انتخاب ہوگا۔ اتوار کو وزیراعظم ہاؤس میں چودھری شجاعت کی صدارت میں منعقد اجلاس میں تمام دھڑوں کے نمائندوں کے علاوہ صوبہ سرحد کے سوا باقی تینوں صوبوں کے وزرا اعلیٰ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے بعد اعجازالحق نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ صدر چودھری شجاعت ہی رہیں گے جبکہ باقی عہدوں پر انتخاب ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ، کیا وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری، پرویز الہیٰ پنجاب، علی محمد مہر سندھ اور جام یوسف کو بلوچستان کا پارٹی صدر بنانے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے تو انہوں نے سختی سے تردید کی اور کہا کہ مختلف تجاویز پیش ہوئی ہیں البتہ کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز، چاروں صوبوں اور وفاق کے لئے چیف آرگنائزر کے نئے عہدے قائم کرنےاور سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے ارکان کی تعداد دو سو مقرر کرنے کے علاوہ تیس رکنی سینٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی بنانے کے بھی فیصلے ہوئے ہیں۔ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان ورکنگ کمیٹی کے اراکین میں سے پارٹی صدر نامزد کریں گے۔ اجلاس میں شریک امتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ اجلاس میں طئے ہوا ہے کہ بارہ مئی کو جنرل کونسل کے اجلاس میں تمام دھڑوں کی جنرل کونسلز کے ارکان شرکت کریں گے جن کی تعداد دوہزار سے زائد ہوگی جس کے بعد متحدہ لیگ کی نئی جنرل کونسل تشکیل دی جائے گی جس میں ارکان کی تعداد پندرہ سو ہوگی۔ مسلم لیگ کے پانچ دھڑوں، جس میں چودھری شجاعت کی سربراہی میں مسلم لیگ (ق)، پیر پگاڑہ کی مسلم لیگ (فنکشنل) ، حامد ناصر چٹھہ کی مسلم لیگ (چٹھہ)، منظور احمد وٹو کی مسلم لیگ (جناح) اور اعجازالحق کی مسلم لیگ ( ضیا) شامل ہیں انہوں نے پہلے ہی انضمام کا فیصلہ کیا تھا تاہم نئی اور متحدہ مسلم لیگ کے عہدیداروں اور جنرل کونسل میں ارکان کی تعداد کے تعین سمیت مختلف تنظیمی معاملات پر فیصلہ نہیں ہو پایا تھا۔
مسلم لیگ (قاسم) کے کبیر علی واسطی اور سندھ ڈیموکریٹک الائنس ( امتیاز شیخ) نے بھی حکمران جماعت مسلم لیگ میں ضم ہونے کا اعلان باقی لیگی دھڑوں کے ادغام سے بھی پہلے کردیا تھا۔ جبکہ سردار فاروق احمد خان لغاری نے نیشنل الائنس کو بھی بقول ان کے صدر جنرل مشرف کی خواہش پر مسلم لیگ میں ضم کرنے کا اعلان گزشتہ ماہ کیا گیاتھا۔ واضع رہے کہ ستروہیں آئینی ترمیم کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کو رواں سال کے اختتام تک صدر اور آرمی چیف کے دہ عہدوں میں سے ایک چھوڑنا ہے اور کہا جاتا ہے کہ شاید وہ آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ کر متحدہ مسلم لیگ کی قیادت سنبھالیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||