BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 January, 2004, 22:08 GMT 03:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان کابینہ میں سولہ نئے وزیر

کوئٹہ

بلوچستان کابینہ میں توسیع کی گئی ہے اور مذید سولہ وزراء نے گورنر ہاؤس میں حلف اٹھایا ہے جس کے بعد کابینہ میں وزراء کی تعداد انتیس ہو گئی ہے۔

گورنر بلوچستان اویس احمد غنی نے نئے وزراء سے حلف لیا وزیروں کے انتخاب اور مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں میں اختلافات کی وجہ سے تقریب حلف برداری میں کافی عرصہ سے تاخیر ہو رہی۔

جمعہ کے روز حلف لینے والے وزراء کی فہرست مرتب ہو نے کے بعد پھر اختلافات بڑھ گئے ہیں۔

مجلس عمل اور مسلم لیگ کے مابین طے شدہ معاہدے کے تحت دونوں جماعتوں کے وزراء کی تعداد برابر ہو گی اس کے علاوہ مجلس عمل کو من پسند وزارتیں بھی دی گئی ہیں جس پر مسلم لیگی ارکان ناراض ہیں سابق وزیراعلی بلوچستان جان محمد جمالی کا موقف ہے کہ مجلس عمل نے مسلم لیگ کو وزارت اعلی کا قلمدان تھما کر اہم اہم وزارتیں حاصل کر لی ہیں۔

تقریب حلف برداری سے پہلے وزیر اعلی بلوچستان نے مجلس عمل کے اراکین سے ملاقات کی اور انہیں وزارتوں کی نئی تقسیم پر راضی کرنا چاہا لیکن مجلس عمل کے اراکیں نے طے شدہ معاہدے سے ہٹنا گوارا نہ سمجھا۔

نئے وزراء میں مجلس عمل اور مسلم لیگ کے سات سات ارکان ہیں جبکہ ایک ایک رکن بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور ملت پارٹی سے شامل کیا گیا ہے۔ مجلس عمل نے ایک اقلیتی رکن جے پرکاش کو بھی کابینہ میں شامل کیا ہے جبکہ مسلم لیگ نے دو خواتین کو وزارتیں دی ہیں ان میں ایک عبدالرحمان کھیتران کی اہلیہ اور دوسری سابق وزیراعلی زولفقار مگسی کی بیوی ہیں۔

نئے وزراء کے حلف لینے کے بعد کابینہ کے ارکان کی تعداد تیس ہو گئی ہے جن میں وزیراعلی بھی شامل ہیں۔

صوبہ بلوچستا ن کافی عرصہ سے معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ نئے وزراء کے آنے سے معیشت پر مذید بوجھ پڑے گا۔

اس بارے میں جب وزیراعلی بلوچستان جام محمد یوسف سے رائے کے اظہار کے لئے کہا گیا تو انھوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔

مجلس عمل کے پالریمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ وہ خود چھوٹی کابینہ کے حق میں ہیں لیکن مخلوط حکومت میں شامل دیگر جماعتوں کی مجبوریوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔

جب ان سے پو چھا گیا کہ صوبہ معاشی مسائل کا شکار ہے اور بقول مولانا واسع کے حکومت ملازمیں کی تنخواہیں دینے کے قابل بھی نہیں رہی تو انھوں نے کہا کہ نئے وزیروں کے آنے سے صوبے کی اقتصادی صورتحال پر کوئی زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا۔

نئے وزیروں کے آنے کے باوجود مسلم لیگ کے اندر تاحال اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جان محمد جمالی اور جعفر مندوخیل تاحال اس نئی صورتحال سے خوش نہیں ہیں جان جمالی وزیراعظم ظفراللہ جمالی کے قریبی رشتہ دار ہیں ۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد