BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 May, 2004, 15:03 GMT 20:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فضل الرحمٰن قائد حزب اختلاف مقرر

مولانا فضل الرحمٰن
اس نوٹیفکیشن میں کسی ضابطے کا حوالہ نہیں دیا گیا
قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین نے مولانا فضل الرحمٰن کو قائد حزب اختلاف مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے سپیکر کا کہنا تھا کہ انہوں نے صوابدیدی اختیارات کے تحت یہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

منگل کو سرکاری طور پر جاری کردہ دو سطروں کے نوٹیفکیشن میں کسی ضابطے کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ جب اسپیکر سے پوچھا گیا کہ قومی اسمبلی کے قوائد کے مطابق ’ایسا رکن اسمبلی جسے ایوان کی اکثریت حاصل ہو انہیں قائد حزب اختلاف نامزد کیا جائے گا، اس پر ان کا کہنا تھا کہ آخر کار قوائد کی تشریح تو اسپیکر کو ہی کرنی ہوتی ہے‘۔

اسپیکر کا کہنا تھا کہ متحدہ مجلس عمل کے مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم کے انتخاب کے وقت پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے امیدوار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے اور متحدہ مجلس عمل نے ایک ہی انتخابی نشان تلے حصہ بھی لیا تھا۔

جب اسپیکر سے دریافت کیا گیا کہ حکمران جماعت مسلم لیگ کے قائد ایوان یعنی وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی کو بھی بطور ایک جماعت اتنی نشستیں حاصل نہیں تھیں پھر انہیں کیوں قائد ایوان بنایا گیا، اس پر انہوں نے کہا کہ قائد ایوان کا معاملہ دوسرا ہے۔ تاہم ان کا دعوٰی تھا کہ ان کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ایک اور اتحاد اے آر ڈی کے چیئرمین مخدوم امین فہیم سے جب رائے معلوم کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کے 79 اراکین نے انہیں قائد حزب اختلاف کے لئے نامزد کیا تھا جبکہ ان کے بقول فضل الرحمٰن کو 68 ارکان نے نامزد کیا تھا۔

امین فہیم نے دعویٰ کیا کہ جنرل مشرف کے چار سالہ دور میں آئین اور قوانین میں جو ترامیم کی گئیں انہیں ستروہیں آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ دینے اور جائز قرار دلوانے کے بدلے میں متحدہ مجلس عمل کو تحفے میں یہ عہدہ ملا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی نامزدگی سے ملا- مشرف اتحاد ، واضح ہوگیا ہے۔ ان کے بقول ’ویسے بھی جنرل مشرف گھر کی چیز گھر میں رکھنا چاہتے تھے اس لئے انہیں حیرانی نہیں ہوئی‘۔

واضح رہے کہ چند ہفتے قبل فوج کو سیاست میں باضابطہ کردار دینے کے لئے قومی سلامتی کونسل کے قیام کا بل پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا تھا ۔ ملکی معاملات کے اہم فیصلوں کی مجاز اس کونسل میں قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف بھی رکن ہیں۔

اکتوبر سن دوہزار دو میں عام انتخابات کے نتیجے میں ایک ماہ بعد نومبر میں حکومت بنی تھی لیکن حزب اختلاف کا رہنما نامزد نہیں کیا جا سکا تھا، اور سترہ ماہ بعد آخر کار منگل کے روز یہ معاملہ طئے کردیا گیا۔

منگل کے روز قائد حزب اختلاف کی نامزدگی سے قبل اسپیکر چیمبر میں غیر رسمی اجلاس بھی ہوا جس میں چودھری شجاعت حسین اور مجلس عمل کے حافظ حسین احمد اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی گوہر ایوب کے علاوہ دیگر نے بھی شرکت کی، اور قائد حزب اختلاف کا فیصلہ کیا گیا۔

علاوہ ازیں اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے سربراہی اجلاس کے بعد اخباری کانفرنس میں مسلم لیگ نواز کے راجہ ظفرالحق نے اسپیکر کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد