BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 March, 2004, 17:39 GMT 22:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فضل، فہیم کو راضی نہ کرسکے

News image
سترہویں ترمیم پر ایم ایم اے، حکومت مفاہمت کے بارے میں اے آر ڈی کے تحفظات ہیں
متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمن اے آر ڈی اور پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرین کے چیئرمین مخدوم امین فہیم کو آٹھ مارچ سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں دونوں اتحادوں کا مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی میں مجلس عمل کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حافظ حسین احمد کے ہمراہ مخدوم امین فہیم سے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ڈیڑھ گھنٹہ تک ملاقات کی اور ان سے کہا کہ قومی اسمبلی کے شروع ہونے والے اجلاس میں اے آر ڈی اور مجلس عمل ان نکات پر جن میں دونوں کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی ہے مل کر لائحہ عمل اختیارکریں۔

تاہم دونوں کے درمیان اس پر اتفاق راۓ نہیں ہوسکا۔

مخدوم امین فہیم کا کہنا تھا کہ انھوں نے ملاقات کے دوران ملک کی سیاسی صورتحال اور حزب اختلاف کے لائحہ عمل سمیت تمام اہم قومی امور پر بات چیت کی لیکن ابھی دونوں کے درمیان کسی مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہونے کا امکان نہیں ہے۔

امین فہیم کا کہنا تھا کہ مجلس عمل نے ایل ایف او کی منظوری کے لئے حکومت کا ساتھ دیا جس پر ان کے تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آر ڈی اور مجلس کا اپنا اپنا لائحہ عمل ہے وہ اس پر چلیں گے۔

امین فہیم نے کہا کہ اے آر ڈی کئی جماعتوں کا اتحاد ہے اوروہ اکیلے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ انھوں نے مولانا فضل الرحمن پر واضح کردیا ہے کہ وہ اے آر ڈی کے دوسرے رہنماؤں سے بات چیت کریں گے اور اتحاد کے دس مارچ کو ہونے والے سربراہی اجلاس میں اس معاملہ پر غور کیا جاۓ گا۔

دوسری طرف مجلس عمل کے رہنما یہ تاثر دے رہے ہیں کہ انھیں اے آر ڈی کا تعاون مل جاۓ گا۔ حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ مخدوم امین فہیم اس معاملہ پر مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام پارلیمانی لیڈر چودھری نثار علی خان سے بات کریں گے اور وہ خود بھی نثار علی خان سے رابطہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے حوالہ سے جلد پیش رفت ہوجاۓگی۔

متحدہ مجلس عمل اور اے آر ڈی کے درمیان سترھویں آئینی ترمیم کے معاملہ پر اختلاف سے پہلے پارلیمینٹ میں تیرہ ماہ تک مشترکہ حزب اختلاف کے طور پر کام کرتے رہے۔

دونوں اتحادوں کے درمیان قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے معاملہ پر بھی اختلاف ہے۔ دونوں اتحاد یہ عہدہ حاصل کرنے کے امیدوار ہیں جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے چیئرمین جنھیں اپنی صوابدید پر یہ معاملہ حل کرنا ہے ایک سال سے اس معاملہ کو مؤخر کررہے ہیں۔

پارلیمینٹ کو وجود میں آۓ ایک سال سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود ابھی تک قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مجالس قائمہ اور کشمیر کمیٹیاں بھی تشکیل نہیں دی گئیں۔ قومی اسمبلی میں سرکاری اداروں کے احتساب کے لیے قائم کی جانے والی اہم پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا قیام بھی عمل میں نہیں آیا ہے۔

ان تمام کمیٹیوں میں حزب اختلاف کے دونوں اتحادوں کو بھی ان کی نشستوں کے مطابق نمائندگی ملے گی اور ان کے اختلاف یا مشرکہ لائحہ عمل اختیار کرنے سے ان کی نمائندگی متاثر ہوسکتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد