’فوج ہی امن و امان قائم رکھ سکتی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بارہ مئی کو کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج منسوخ کر کے دوبارہ فوج کی نگرانی میں انتخاب کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مجلس کے مطابق ملک میں آخری قوت فوج ہی کی ہے جو امن و امان قائم رکھ سکتی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی اور ملک کی فوج یا کسی ادارے کو بلا کر نگرانی نہیں کرائی جا سکتی ۔ ان خیالات کا اظہار مولانا فضل الرحمٰن نے پیر کے روز متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقعہ پر قاضی حسین احمد اور علامہ ساجد نقوی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ مجلس عمل نے چیف الیکشن کمشنر پر شفاف ضمنی انتخابات کے انعقاد میں ناکامی اور گورنر سندھ پر دھاندلی کرانے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں فوری طور پر مستعفی ہونا چاہئے۔ واضع رہے کہ بارہ مئی کو کراچی میں تین قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران پُرتشدد کاروائیوں میں سات سے زائد افراد قتل اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ مجلس عمل اور متحدہ قومی موومینٹ نے ایک دوسرے پر ووٹرز کو روکنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو شکایات کی تھیں۔ الیکشن کمیشن نے شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے۔ لیکن مجلس عمل نے تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے فوج کی نگرانی میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔ مجلس عمل کے رہنماؤں نے صدر جنرل مشرف پر الزام لگایا کہ مغربی اور امریکی دباؤ کے نتیجے میں حدود آرڈیننس اور توہین رسالت کے قوانین میں ترمیم کا انہیں عندیہ ملا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ وہ اسلامی قوانین میں ردو بدل نہیں ہونے دیں گے اور اسلامی قوانین کا تحفظ کیا جائے گا۔ فضل الرحمٰن نے بتایا کہ آئندہ ماہ قومی امور پر یکجہتی کے لئے قومی کانفرنس بلائی جائے گی جس میں تمام سیاسی اور مذہبی مکتب فکر کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد کابینہ میں توسیع کی منظوری دی گئی ہے جس سے وزیراعلیٰ سرحد کو آگاہ کر دیا جائے گا اور اس پر فوری عمل ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا سمیع الحق نے مجلس عمل کے فیصلوں کی نہ صرف خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ قبول کی ہے بلکہ فضل رحمٰن کے مطابق سمیع الحق مجلس عمل کے اجلاسوں میں شرکت کے علاوہ مجلس کے خلاف مسلسل بیانات بھی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر، پروفیسر ساجد میر کی سربراہی میں قائم کمیٹی سمیع الحق سے بات کرے گی اور آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے گی جس کے بعد ان کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ قبائلی علاقہ وزیرستان میں حکومت اور فوج کے درمیان سمجھوتے کے حوالے سے سوال پر قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ فوج اور قبائلی عمائدین نے دانش اور حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے درمیانہ راستہ نکالا ہے جسے وہ سراہتے ہیں۔ تاہم غیر ملکیوں کے اندراج کے سوال پر وہ خاموش رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||