خواتین ارکان اسمبلی متحدہ ہوگئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اسمبلی میں اسپیکر افضل ساہی نے متحدہ مجلس عمل کے ایک رکن کو تنبیہ کی کہ اگر انھوں نے آئندہ خواتین کے بارے میں کوئی ایسا جملہ کہا تو وہ ان پر تین ماہ تک اسمبلی کی کاروائی میں شرکت پر پابندی عائد کردیں گے۔ رکن پنجاب اسمبلی احسان اللہ وقاص نے قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر یار محمد رند اور عائلہ ملک کی شادی کے حوالے ایک ایسا جملہ کیا تھا جس پر خواتین ارکان مشتعل ہو گئی تھیں۔ سپیکر نے بعد میں یہ جملہ کارروائی سے حذف کر دیا تھا۔ احسان اللہ وقاص کے خواتین ارکان اسمبلی کے بارے میں تبصرے ایک سے زیادہ دفعہ احتجاج کا باعث بن چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی رکن اسبلی فائزہ ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ احسان اللہ وقاص نے جو بات کی تھی وہ خواتین ارکان کے لیے بہت بے عزتی کی بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی جب تحاریک استحقاق پر بات چیت کررہی تھی تو متحدہ مجلس عمل کے ایک رکن اسمبلی احسان اللہ وقاص نے رکن قومی اسمبلی عائلہ ملک اور ایک وزیر کی شادی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک تبصرہ کیا جس پر حکومتی پارٹی اور حزب اختلاف کی خواتین ارکان دس بارہ منٹ تک احتجاج کرتی رہیں اور ایوان تلپٹ ہوگیا۔ بالآخر اسپیکر نے احسان اللہ وقاص اور کچھ ارکان اسمبلی کو چیمبر میں بلا کر صلح صفائی کرائی اور ایوان میں آکر اس سے متعلق تمام کارروائی حذف کرنے کا اعلان کیا۔ احسان اللہ وقاص نے ایوان میں کہا کہ اگر انھوں نے کسی کی دلآزاری کی بات کی ہے ، جو کہ حقیقت میں انھوں نے نہیں کی، تو وہ اس پر معذرت کرتے ہیں۔ احسان اللہ وقاص نے گزشتہ سال ایک اجلاس میں یہ کہا تھا کہ خواتین کو سویٹ ڈش کے طور پر اسمبلیوں میں لایا گیا ہے جس پر خاصا ہنگامہ برپا ہوگیا تھا اور ایک خاتون رکن نے ان کو جواب دیتے ہوۓ کہا تھا کہ مرد ارکان کے لیے یہ سویٹ ڈش کھانا آسان نہیں ہوگا۔ آج کے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوۓ پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی فائزہ ملک نے بی بی سی کوبتایا کہ سپیکر نے احسان اللہ وقاص کو تنبیہ کرکے صحیح قدم اٹھایا کیونکہ ان کو عادت ہوگئی ہے کہ وہ اکثر سنجیدہ ماحول میں شر انگیزی پھیلا دیتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کا شاید ہی کوئی اجلاس ہو جس میں خواتین سے متعلق کوئی معاملہ زیر بحث نہ آتا ہو۔ انتیس اکتوبر پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں خواتین ارکان کے ننگے سر اور دوپٹہ اوڑنے کے معاملہ پر خاصا ہنگامہ ہوگیا تھا اور اس موضوع پر بحث کے دوران مرد ارکان قہقہے لگاتے رہے تھے۔ یہ بات ایک رکن حامد شاہ نے کہا تھا کہ رمضان المبارک کے تقدس میں خواتین ارکان اسمبلی کو اپنے سر ڈھانپ لینے چاہیں اور اگر کوئی رکن دوپٹہ سر پر نہیں اوڑھنا چاہتی تو اسے گیلری میں بھیج دیا جائے۔ اس بات پر خواتین ارکان نشستوں سے کھڑی ہوگئیں اور انھوں نے سخت احتجاج کیا تھا۔ یہ بحث اس وقت ختم ہوئی تھی جب اسمبلی چلانے والے ڈپٹی اسپیکر شوکت مزاری نے کہا کہ ایوان میں موجود تمام خواتین محترم ہیں اور یہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں اور رمضان کے تقدس کے پیش نظر ارکان کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہیں۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی کی منحرف رکن انبساط خان اور پیپلز پارٹی کی ایک اور رکن عظمی بخاری کے درمیان جھڑپ ہوگئی تھی جس میں ذاتی نوعیت کے الزامات لگائے گئے۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ(ق) کی رکن اسمبلی نے جب گھریلو تشدد کے خلاف بل پیش کیا تو مرد ارکان نے اس پر اعتراض کرتے ہوۓ کہا تھا کہ اس سے خاندان تباہ ہوجائیں گے۔ پنجاب اسمبلی میں قانون سازی ہو یا نہ ہو خواتین ارکان کے بارے میں بعض مرد ارکان کے تبصرے خاصہ ہنگامہ آرائی کا باعث بنتے رہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||