| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خواتین ارا کین اسمبلی کا اتحاد
پنجاب اسمبلی میں حکومتی جماعت اور حزب اختلاف کی خواتین ارکان اسمبلی گھریلو تشدد کو روکنے کے لیے قانون سازی کرنے پر متحد ہوگئی ہیں۔ بدھ کے روز اسپیکر نے اس موضوع پر پیش کیے گئے بل پر غور کرنے کے لیے اسے ایک مجلس قائمہ کے سپرد کردیا جس میں پیپلز پارٹی کے ارکان بھی شامل کیے جائیں گے۔ منگل کے روز حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کی رکن صوبائی اسمبلی انجم امجد نے نجی حییثت میں گھریلو تشدد روکنے کے لیے ایک مسودہء قانون اسمبلی میں پیش کیا تو پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین اور مسلم لیگ(ن) کی خواتین ارکان اسمبلی نے اس کی حمایت کی۔ گو اس قانون میں ہر طرح کے گھریلو تشدد کے خلاف بات کی گئی ہے لیکن اس کا فائدہ زیادہ تر ظلم کا شکار ہونے والی عورتوں کو ہو گا۔ انسانی حقوق کمیشن براۓ پاکستان کے مطابق ملک میں گھریلو تشدد کے واقعات کی اکثریت میں عورتوں اور لڑکیوں کو تیزاب سے جلانا، ان کے جسم کو گرم جلتی ہوئی سلاخوں سے داغنا، ان کو اندھا کرنا، چولھا پھاڑ کر جلا دینا اور قتل کردینا شامل ہیں۔
ابھی تک مسلم لیگ (ق)، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے مرد ارکان نے بھی عورتوں کے حقوق سے متعلق اس بل کی مخالفت نہیں کی۔البتہ متحدہ مجلس عمل کے رہنما احسان اللہ وقاص نے اس پر اعتراض کرتے ہوۓ کہا کہ اس قانون کے منظور ہونے سےگھرانے ٹوٹ جائیں گے۔ تاہم متحدہ مجلس عمل کی خواتین ارکان نے اس پر خاموشی اختیار کی اور مخالفت سے اجتناب کیا۔ بل کی محرک انجم امجد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوۓ کہا کہ انہوں نے ایک مسودہ پیش کیا ہے جسے ممکنہ ترمیم کے بعد مجلس قائمہ اسمبلی میں پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بل صرف عورتوں کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس سے بچوں، مردوں اور ان تمام افراد کو تحفظ دلانا مقصود ہے جن کی زندگی کا انحصار کسی اور پر ہو۔
انجم امجد نے کہا کہ عورتوں پر تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ انیس سو ستانوے میں صوبے میں ایسے واقعات کی تعداد پندرہ سو تھی جبکہ سنہ دو ہزار دو میں یہ تعداد تقریباً دگنی ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ پر نہ آنے والے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ عام طور پر عورتیں اپنے خاوندوں کے ہاتھوں ہونے والے تشدد پرمقدمہ درج نہیں کراتیں۔ انجم امجد کا کہنا تھا کہ گھریلو تشدد کو روکنا معاشرے کی بہتری کے لیے ضروری ہے کیونکہ جو بچے اپنےگھر میں تشدد کا ماحول دیکھتے ہیں وہ بڑے ہوکر اپنے آس پاس کے لوگوں کے ساتھ بھی جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو گھریلو جھگڑوں کو سلجھانے میں مدد کریں اور اگر پھر بھی تشدد جاری رہے تو پہلے سے موجود قانون پر عمل کروائیں۔ حزب اختلاف کی ارکان اسمبلی نے اس مجوزہ بل کی حمایت کی ہے لیکن انہیں اس پر کچھ تحفظات ہیں۔ پیپلز پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی فائضہ ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ کہا کہ اس بل میں حفاظتی افسر کا عہدہ قائم کرنے کا کہا گیا ہے لیکن اسے ہمارے معاشرے میں قبول نہیں کیا جاۓ گا۔ اسی طرح کچھ اور خامیاں ہیں جن کو دور کرنے کے لیے ان کی جماعت تجاویز پیش کرے گی اور اگر ان ترامیم کو قبول کیا گیا تو ان کی جماعت اسے منظور کروانے کے لیے ووٹ دے گی۔
مسلم لیگ(ن) کی رکن اسمبلی صبا صادق نے کہا کہ وہ خود خاندانی معاملات سے متعلق مقدمات میں وکیل کے طور پر پیش ہوتی رہی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس بل میں کچھ خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس بل کو موجودہ شکل میں منظور کیا گیا تو فائدے کی بجاۓ نقصان ہوگا اس لیے وہ اسمبلی میں اپنی جماعت کی طرف سے اس میں ترامیم پیش کریں گی۔ انسانی حقوق کمیشن براۓ پاکستان کے مطابق ملک میں اسی سے نوے فیصد خواتین کسی نہ کسی طرح کے گھریلو تشدد کا شکار ہیں جبکہ اس بارے میں بہت کم شکایات ریکارڈ پر آتی ہیں۔ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق جج گھریلو تشدد کے مقدمات کا فیصلہ کرتے ہوۓ مردوں کے حق میں تعصب اختیار کرتے ہیں اور تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں کو ان پر مار پیٹ کرنے والے خاوندوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||