امن مارچ: آنسو گیس اور گرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں اتوار کو متحدہ مجلس عمل کی امن مارچ کو نہیں ہونے دیا گیا اور بیشتر مقامی رپنماوں سمیت سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیاہے۔ متحدہ مجلس عمل کی جانب سے شہر میں گزشتہ دو ماہ کے دوران ہونے والی دھشت گردی کے حوالے سے اس امن مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ ایم اے جناح روڈ پر آج صبح ہی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جگہ جگہ بسیں، ٹرک اور کنٹینر کھڑے کر کے راستوں کو بند کر دیا تھا۔ تاہم شام چار بجے کے بعد مجلس عمل کے کارکن مختلف ٹولیوں میں وہاں پہنچتے رہےجن کو پولیس حراست میں لیتی رہی۔ چند سو کارکن ایم اے جاناح روڈ پر واقع ریڈیو پاکستان کی عمارت کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے جہاں قومی اسمبلی کے رکن اور مجلس عمل سندھ کے صدر مولانا اسد اللہ بھٹو نے خطاب کیا۔ مگر جلد ہی پولیس نے وہاں آنسو گیس کے شیل پھینکے اور لاٹھی چارج کر کے کارکنوں کو منتشر کر دیا۔ وہاں موجود مولانا اسد اللہ بھٹو سمیت صوبائی اسمبلی کے رکن مولانا عمر صادق، نصر اللہ شجیع اور دیگر رہنماوں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ کراچی پولیس کے سربراہ طارق جمیل نے دو سو افراد کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ آج دوپہر مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد کو کراچی ائرپورٹ سے اسلام آباد بھیج دیا گیا تھا۔ قاضی حسین احمد امن مارچ میں شرکت کے لیے پشاور سے کراچی پہنچے تھے۔ گزشتہ روز مجلس عمل کے سکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمن کو بھی امن مارچ میں شرکت سے روکنے کے لیے کراچی ائرپورٹ سے واپس اسلام آباد بھیج دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||