متحدہ اپوزیشن بنانے کی کوشش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کے زیراہتمام پیر کو لاہور میں ستائیس سیاسی جماعتوں کی گول میز کانفرنس منعقد ہوئی جس کے بعد اتحاد کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے صحافیوں کو بتایا کہ جمہوریت کی بحالی کے لیے عوام کو متحرک کیا جاۓ گا اور مجلس عمل سے مل کر جدوجہد کرنے کے لیے بات چیت جاری رہے گی۔ ماضی میں مخدوم امین فہیم متحدہ مجلس عمل مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو صدر مشرف کی حکومت کی سترھویں ترمیم کو منظور کرانے پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں اور ان سے کسی تعاون کے امکان کو رد کرتے رہے ہیں۔ لیکن پیر کو انہوں نے مجلس عمل کو ہدف تنقید نہیں بنایا بلکہ ان کا رویہ مجلس عمل کی طرف مفاہمت پر مبنی تھا۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ مجلس عمل نے بات چیت کی ابتدا کی ہے اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے جدہ میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف سے ملاقات کی اور دبئی میں مولانا فضل الرحمن نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو سے جو بات چیت کی اس کے بعد اے آر ڈی کی ایم ایم اے سے بات چیت شروع ہوئی ہے۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ مجلس عمل سے بات چیت اس بنیادی نکتہ پر ہورہی ہے کہ ملک میں مکمل جمہوریت بحال ہو اور اگر سترھویں آئینی ترمیم اور جنرل پرویز مشرف کی وردی کے معاملہ پر مل کر جدوجہد کی جائے تو اس میں کوئی خرابی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل سے اے آر ڈی کی بات چیت کے لیے دو رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں وہ خود اور مسلم لیگ(ن) کے راجہ ظفرالحق شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس گول میز کانفرنس میں مجلس عمل کو اس لیے نہیں بلایا گیا کہ بات چیت کے لیے وقت کم تھا اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ یہ کانفرنس کرلی جائے اور بعد میں بات چیت جاری رکھی جائے۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ گول میز کانفرنس کا فیصلہ ہے کہ فوجی اقتدار کو کسی شکل میں تسلیم نہیں کیا جائے گا اور اصل جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ اے آر ڈی کے سربراہ نے کہا کہ رمضان میں افطار پارٹیوں کے ذریعے ارو عید کے بعد جلسے جلوسوں کے ذریعے عوام کو جمہوریت کی بحالی کے لیے متحرک کیا جائے گا۔ مخدوم امین فہیم نے اے آر ڈی کا مطالبہ دہرایا کہ ایک منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کرائے جائیں جو ایک آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن کے تحت منعقد ہوں اور جس الیکشن پر قوم کو اعتماد اور بھروسہ ہو۔ گول میز کانفرنس نے ایک قرارادا بھی منظور کی ہے جس میں سترہویں آئینی ترمیم پر تنقید کی گئی ہے اور اسیر سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ قوم عدلیہ سے توقع رکھتی ہے کہ وہ غیرجانبدار ہوکر اپنے فرائض انجام دے۔ سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مذہبی جماعتوں کے درمیان اختلافات کم ہوئے ہیں اور اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان قربت کے امکانات زیادہ ہوئے ہیں جس سے آنے والے دنوں میں متحدہ حزب مخالف کی تشکیل کی توقع کی جاسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||