’ایم ایم اے کو نہیں بلائیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب مخالف کے اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) نے کہا ہے کہ اس نے متحدہ مجلس عمل کو اے آر ڈی کی گیارہ اکتوبر کو بلائی گئی گول میز کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔ جمعہ کو اے آر ڈی کے جنرل سیکرٹری ظفر اقبال جھگڑا نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مجلس عمل اگر اے آر ڈی سے رابطہ کرے گی تو اسے سترہویں ترمیم کی حمایت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ مجلس عمل میں شامل دو جماعتیں مولانا سمیع الحق کی جمعیت العلمائے اسلام اور مولانا ساجد میر کی جمعیت اہل حدیث اے آر ڈی کے موقف سے متفق ہیں اور انھیں اے آر ڈی کی گول میز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اے آر ڈی کے جنرل سیکرٹری نے بتایا کہ دس اکتوبر کو اتحاد کا سربراہی اجلاس لاہور میں ہوگا اور گیارہ اکتوبر کو لاہور پریس کلب میں گول میز کانفرنس ہوگی جس کا عنوان رکھا گیا ہے ’گول میز کانفرنس برائے سلامتی‘ تاکہ سب جماعتیں موجودہ ملکی بحران پر تبادلہ خیال کرسکیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے اے آر ڈی کی جماعتوں کے علاوہ بیس سیاسی جماعتوں اور وکلاء اور صحافیوں کے نمائندوں کو بھی بلایا گیا ہے۔ اے آر ڈی کے رہنما نے کہا کہ تمام خرابیوں کی جڑ سترہویں آئینی ترمیم ہے اور اگر مجلس عمل جس نے اس کی حمایت کی تھی اب اس سے دستبردار ہوجائے تو اے آر ڈی اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب اے آر ڈی اور مجلس عمل کا موقف الگ الگ ہے تو وہ تحریک بھی الگ الگ چلائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اے آر ڈی سترہویں ترمیم پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||