’اےآرڈی کو پونم کا ساتھ چاہیئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتحاد برائے بحالئی جمہوریت یعنی اے آر ڈی کے قائدین نے ملک میں سترھویں ترمیم کے خلاف تحریک کے پہلے روز کوئٹہ میں آج وکلا سے خطاب کیا اور اپنے آپ کو محکوم کہلوانے والی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم کے قائدین سے ملاقات کی ہے اور اے آر ڈی کے قائدین نے پونم سے تحریک میں ساتھ دینےکے لیے کہاہے۔ اے آر ڈی کے چییر مین مخدوم امین فہیم نےوکلاء سے خطاب میں کہا ہے کہ سترھویں ترمیم کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو احتجاجی پروگرام مرتب کرے گی۔ امین فہیم نے کہا ہے کہ اس وقت صرف وردی ہی نہیں بلکہ مکمل سترھویں ترمیم کو مسترد کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو آئینی صدر ہی تسلیم نہیں کرتے وردی کا معاملہ تو دور کی بات ہے۔ کوئٹہ میں سربراہ اجلاس کے بعد اخباری کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے اتحاد کے چیئرمین مخدوم امین فہیم، وائس چیئر پرسن تہمینہ دولتانہ اور دیگر قائدین نے کہا کہ وہ وردی کے معاملے پر مجلس عمل کا ساتھ نہیں دیں گے بلکہ وہ سترھویں ترمیم کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ اے آر ڈی کے قائدین نے آج بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم کے اراکین اسمبلی اور قائدین سے ملاقات کی جس میں انھوں نے اس تحریک میں حما یت کا مطالبہ کیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اے آر ڈی کے قائدین سے کھل کر باتیں ہوئی ہیں۔ انھیں یہ کہا گیا ہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی نے صوبائی خود مختاری کے حوالے سے بڑے بڑے وعدے کیے تھے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وہ وعدے وفا نہیں ہوئے جس پر پیپلز پارٹی کے رہنما نے معافی مانگی ہے۔ کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اگر صوبائی خود مختاری کے حوالے سے اے آر ڈی ہمارے قائدین کو مطمئن کر دے تو پونم نہ صرف اس تحریک کا ساتھ دے گی بلکہ یہاں بلوچستان سے اس تحریک کا بھر پور انداز میں آغاز کیا جائے گا کیونکہ موجودہ حکومت کے خلاف تحریک شروع کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||