BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 July, 2005, 18:27 GMT 23:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سپریم کورٹ تک جائیں گے‘
کلثوم نواز
بیگم کلثوم نواز نے بتایا کہ جدہ میں قونصلیٹ والوں نے ان کے داماد سے کہا ہے وہ تین روز بعد پتہ کریں
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے جلا وطن رہنما نواز شریف اور ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی پاکستانی پاسپورٹ کے لیے درخواست کے بارے میں بیگم کلثوم نواز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگر ان کو پاسپورٹ نہ دیے گئے تو وہ یہ معاملہ پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک لے جائیں گے۔

منگل پانچ جولائی کو بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین سے بات کرتے ہوئے کلثوم نواز نے پاسپورٹ کے بارے میں کہا ’یہ ہمارا حق ہے، یہ ہمیں ملنا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا ’مجھے یہی پتہ ہے کہ کسی اور نے ہم سے نہیں کہا کہ اپلائی کرو ، ہم نے اپنی مرضی سے اپلائی کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے داماد کیپٹن صفدر نے فارم جمع کرائے تو جدہ میں پاکستانیقونصل خانے کی اہلکار نے ان سے دو دن مانگے لیکن پھر کہا کہ تاخیر ہوگی کیونکہ بیچ میں چھٹی کا ایک دن بھی آگیا تھا۔ ’اب انہوں نے کہا ہے کہ آپ تین دن بعد آئیں تو پھر ہم آپ کو بتائیں گے۔‘

 مجھے یہی پتہ ہے کہ کسی اور نے ہم سے نہیں کہا کہ اپلائی کرو ، ہم نے اپنی مرضی سے اپلائی کیا ہے
کلثوم نواز

کلثوم نواز نے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ٹو بی ویری فرینک جو ہمارا ارادہ ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے پاسپورٹ نہیں دیا تو پھر ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ۔ اور اگر دے دیے تو ویل اینڈ گُڈ۔ لیکن نہیں دیتے تو آپ لوگ بھی دیکھیں کہ وہ کس حد تک جا سکتے ہیں۔‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد