’سپریم کورٹ تک جائیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے جلا وطن رہنما نواز شریف اور ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی پاکستانی پاسپورٹ کے لیے درخواست کے بارے میں بیگم کلثوم نواز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگر ان کو پاسپورٹ نہ دیے گئے تو وہ یہ معاملہ پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک لے جائیں گے۔ منگل پانچ جولائی کو بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین سے بات کرتے ہوئے کلثوم نواز نے پاسپورٹ کے بارے میں کہا ’یہ ہمارا حق ہے، یہ ہمیں ملنا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا ’مجھے یہی پتہ ہے کہ کسی اور نے ہم سے نہیں کہا کہ اپلائی کرو ، ہم نے اپنی مرضی سے اپلائی کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے داماد کیپٹن صفدر نے فارم جمع کرائے تو جدہ میں پاکستانیقونصل خانے کی اہلکار نے ان سے دو دن مانگے لیکن پھر کہا کہ تاخیر ہوگی کیونکہ بیچ میں چھٹی کا ایک دن بھی آگیا تھا۔ ’اب انہوں نے کہا ہے کہ آپ تین دن بعد آئیں تو پھر ہم آپ کو بتائیں گے۔‘ کلثوم نواز نے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ٹو بی ویری فرینک جو ہمارا ارادہ ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے پاسپورٹ نہیں دیا تو پھر ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ۔ اور اگر دے دیے تو ویل اینڈ گُڈ۔ لیکن نہیں دیتے تو آپ لوگ بھی دیکھیں کہ وہ کس حد تک جا سکتے ہیں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||