BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 July, 2005, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نوازشریف 2010 تک نہیں آ سکتے‘

نوازشریف اور بینظیر بھٹو
نوازشریف سعودی عرب اور بینظیر بھٹو دبئی میں جلا وطنی گزار رہے ہیں
پاکستان کی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف 2010 تک سعودی عرب میں رہیں گے اور پاکستان کی سعودی حکومت کے ساتھ یہی ڈیل ہوئی تھی۔

حکومت کے ترجمان نے ایک تحریری بیان میں ان خبروں پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ عبداللہ کے ساتھ نواز شریف کے بارے میں کوئی بات ہوئی تھی۔

ترجمان نے ان خبروں کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ شہزادہ عبداللہ حکومت پاکستان اور نواز شریف کے درمیان کسی قسم کی ڈیل کروا رہے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اور سعودی رہنماؤوں کی بات چیت میں نواز شریف کے بارے میں بات تو درکنار ان کا نام بھی نہیں لیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ یہ افواہیں سیاسی مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں جن کا مقصد شاید بلدیاتی انتخابات میں سیاسی مقبولیت حاصل کرنا ہے۔

حکومت پاکستان کی یہ وضاحت ایسے موقع پر آئی ہے جب دو روز قبل سعودی عرب کے شہر جدہ میں پاکستانی قونصل خانے میں سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے جلا وطن رہنما نواز شریف اور ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز نے پاکستانی پاسپورٹ کے حصول کے لیے درخواست جمع کروائی ہے۔

نواز شریف کی طرف سے ان کےداماد کیپٹن صفدر نے یہ درخواست جدّہ میں پاکستانی قونصل خانے میں جمع کرائی تھی۔

مسلم لیگ نواز کے ترجمان صدیق الفاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ کیپٹن صفدر پیر کو جب جدہ میں پاکستانی قونصل خانے پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ نواز شریف کی درخواست پاکستان کے دفتر خارجہ اور ریاض میں پاکستانی سفیر کو ارسال کر دی گئی ہے اور اس کے بارے میں حکومت کا فیصلہ دو روز میں قونصل خانے کو موصول ہو جائےگا جس کے بعد بدھ کو اس درخواست پر فیصلہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ نواز شریف کو پاسپورٹ جاری کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت پاکستانی پاسپورٹ کا حصول نواز شریف کا حق ہے تاہم اس کا فیصلہ جدہ میں پاکستانی قونصل خانہ کرے گا۔انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پاسپورٹ کی درخواست اور حکومت سے مفاہمت دو الگ چیزیں ہیں اور ان کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

نواز شریف نے اس سے قبل دو ہزار دو میں پاسپورٹ کے حصول کے لیے درخواست جمع کرائی تھی مگر جدہ میں پاکستانی قونصل خانے نے یہ کہ کر وہ درخواست مسترد کر دی تھی کہ پاکستان کی حکومت نے قونصل خانے کو تحریری ہدایت نامے میں کہا ہے کہ نواز شریف کو کسی قیمت پر پاسپورٹ جاری نہ کیا جائے۔

نواز شریف کو صدر جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے میں وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر کے ان کے خاندان سمیت دو ہزار میں سعودی عرب جلا وطن کردیا تھا۔

تاہم گزشتہ ہفتے صدر جنرل پرویز مشرف کے سعودی عرب کے اچانک دورے سے ملک میں قیاس آرائیاں ہوئیں اور چند اخبارات نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے حکمرانوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سے نواز شریف کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت کرنے کے لیے کہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد