مشرف سمجھوتہ چاہتے ہیں: نواز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں جلاوطن پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ’پرویز مشرف‘ نے ان سے سمجھوتہ کرنے کے لیے ان کے پاس کئی لوگوں کو بھیجا جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا وہ بہت احترام کرتے ہیں۔ لاہور میں سنیچر کو مسلم لیگ(ن) کے نو منتخب ضلعی عہدیداروں سے نواز شریف نے چالیس منٹ تک ٹیلی فون پر خطاب کیا۔ نواز شریف نے اپنی تقریر میں صدر جنرل پرویز مشرف کے لیے صدر اور جنرل کے الفاظ استعمال نہیں کیے بلکہ وہ انہیں محض پرویز مشرف کہتے رہے۔ نواز شریف کے پارٹی عہدیداروں سے خطاب کی تفصیل بتاتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری اطلاعات صدیق الفاروق نے کہا کہ نواز شریف نے کہا کہ انہیں پاکستان بہت عزیز ہے اور وہ جلد سے جلد ملک واپس آنا چاہتے ہیں اور اگر وہ صدر مشرف سے ڈیل کرلیں تو اگلے روز ہی ملک واپس آسکتے ہیں لیکن ان کے اصول اٹل ہیں اور وہ جمہوریت، پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ صدر پرویز مشرف کے ساتھ آئین، جمہوریت اور اداروں کے کردار کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے چھ سال تک جو قربانیاں دیں ان پر پانی پھیر دیا جائے اور ملک میں آئین کی بحالی کے امکانات ہمیشہ کے لیے معدوم ہوجائیں۔ نواز شریف نے کہا کہ ان کی جماعت کا حکمران جماعت مسلم لیگ(ق) میں ضم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور پارٹی چھوڑ کر جانے والے ان لوگوں کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے جنہوں نے پارٹی کو نقصان پہنچایا، اس کے دفاتر پر قبضے کیے اور پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات میں ان کا ساتھ دیا۔ دسمبر سنہ دو ہزار میں پاکستان سے جلاوطن کیے گئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارٹی کے عہدیداروں سے اس وقت خطاب کیا ہے جب مقامی حکومتوں کے انتخابات کا بھی اعلان ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف حکومت کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ حکمران مقامی حکومتوں کے انتخابات میں دھاندلی کرائیں گے لیکن ان کی پارٹی نے اس دھاندلی کا مقابلہ کرنا ہے اور انہیں شکست دینی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ وزیروں کو مستعفی ہوئے بغیر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینا بھی دھاندلی کی ابتداء ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ ان کی پارٹی اپنے امیدوار کھڑے گی اور حزب مخالف کی جماعتوں سے نشستوں پر سمجھوتہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت حکمران مسلم لیگ (ق) اور پرویز مشرف کے کسی اتحادی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||