’اسمبلیاں نہ توڑنےپر شکریہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اسمبلی کے سپیکر افضل ساہی نے ہفتے کو ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین سال تک اسمبلی میں حزب اختلاف کا رویہ دیکھنے کے بعد وہ ان مقتدر قوتوں کے شکرگزار ہیں جو اسمبلیاں توڑنے کا اختیار رکھتی ہیں ’لیکن اسمبلی میں اتنا گند پڑنے کے باوجود وہ ہمیں موقع دئیے جارہے ہیں‘۔ غیرپارلیمانی الفاظ کے ستعمال کے الزام میں اسپیکر پنجاب اسمبلی تین دنوں میں حزب مخالف کے دس ارکان اسمبلی کی رکنیت پندرہ روز کے لیے معطل کرچکے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ حزب مخالف کے رویے سے یہ طے ہو گیا ہے کہ وہ اس بات پر تلے ہوئے ہیں کہ اسمبلیاں نہیں چلنے دیں گے اور یہ اسمبلیاں نہ رہیں۔ سپیکر نے آج کہا کہ اگر انہیں ایوان کو پرسکون انداز سے چلانے کے لیے قواعد و ضوابط دئیے گئے اوراگراختیارات کے تحت سو ارکان کو بھی ایوان سے نکالنا پڑا تو وہ ایسا کریں گے۔ گزشتہ روز ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب پرویز الہی نے کہا تھا کہ ایوان میں کوئی آئے یا نہ آئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سپیکر افضل ساہی نے بجٹ اجلاس کے دروان حزب مخالف کے ارکان کے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا کہ انہوں نے جن ارکان کی رکنیت معطل کی ہے وہ انہیں بحال کردیں۔ سپیکر نے حزب اختلاف کے رہنما رانا آفتاب کو حزب اقتدار کے رویہ کے بارے میں قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد حزب مخالف کے ارکان نے سپیکر گو کے نعرے لگائے اور دو ارکان نے یہ نعرے لگائے کہ ’جنرل مشرف نےگھوڑا پالا، افضل ساہی جھمرا والا‘۔ سپیکر افضل ساہی کا تعلق ایک علاقہ چک جھمرا سے ہے۔ یہ نعرہ لگانے پر سپیکر نے حزب مخالف کے رکن اسمبلی ملک نواز کی رکنیت پندرہ روز کے لیے معطل کردی اور حزب مخالف کے ارکان اجلاس سے بائکاٹ کرکے چلے گئے۔ گزشتہ روز سپیکر نے حزب مخالف کے سات ارکان کی اور جمعرات کو دو ارکان کی رکنیت معطل کی تھی۔ اجلاس کےاختتام پر سپیکر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک بار پھر ایوان میں بدمزگی ہوئی اور انہوں نے حزب مخالف کے احتجاج کو صبر و تحمل سے برداشت کیا اور وہ حزب اقتدار کی بھی داد دیتے ہیں جنہوں نے صبر وتحمل کامظاہرہ کیا۔ سپیکر نے کہا کہ احتجاج کرنا حزب مخالف کاحق ہے اور اگر وہ یہ احتجاج حدود کے اندر کرے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ حزب اختلاف کے اس دعوے کی تائید کرتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت رہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ حزب مخالف کے ارکان ایوان میں موجود رہیں اور پوری کوشش کی یہ ایوان سلامت رہے۔ افضل ساہی نے کہا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ یہ ایوان باوقار اور پرسکون طریقے سے چلتا رہے اور اسمبلیاں اپنا عرصہ پورا کریں۔ دوسری طرف حزب مخالف کے ارکان نے اسپیکر کے خلاف پنجاب اسمبلی کے احاطے سے باہر بھی نعرے بازی کی۔ جن ارکان کو معطل کرکے ان کے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں داخل ہونے پر پابندی لگائی گئی ہے وہ گاڑی میں بیٹھ کر ایوان میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے لیکن پولیس نے انہیں سڑک پر روکے رکھا۔ گزشتہ روز ایوان میں پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الہی نے کہا تھا کہ حزب اختلاف والے بیرونی اشاروں پر سیاست کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی رہنما رانا ثنا اللہ نےایوان میں جو ذو معنی اور فحش باتیں کیں اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ تاہم رانا ثناللہ نے ان الزامات کی تردید کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||