اجلاس میں شرکت پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اسمبلی میں شور مچانے اور ہنگامہ آرائی کرنے پر سپیکر نے اپوزیشن کے مزید سات اراکین کو ایک سیشن کے لیے اجلاس کی کارروائی میں شرکت سے روک دیاہے۔ یہ اراکین سپیکر پنجاب اسمبلی کی اس کارروائی پر احتجاج کر رہے تھے جس کے تحت انہوں نے ایک روز پہلے مسلم لیگ کے صوبائی پارلیمانی لیڈر اور قائم مقام قائد حزب اختلاف رانا ثناءاللہ اور ایک دوسرے رکن رانا مشہود کے پنجاب اسمبلی کے موجودہ (بجٹ ) سیشن میں شرکت کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔ اس طرح گزشتہ دو دنوں میں مجموعی طور پر نو اراکین کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی ہوئی ہے۔اپوزیشن نے احتجاج کے طور پر جمعہ کو باقی کارروائی کا بھی بائیکاٹ کیا۔ جمعہ کواسمبلی کارروائی کا آغاز ہوتے ہی اپوزیشن کے رانا آفتاب احمد نے پوائنٹ آف آڈر پر کہا کہ ’رانا ثناءاللہ اور رانا مشہود کے خلاف جاری ہونے والے نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ وہ اجلاس کی کارروائی میں شرکت نہیں کر سکتے جبکہ زبانی طور پر ان پر اسمبلی کی عمارت میں داخلے پر پابندی لگائی گئی ہے۔‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بات پر رولنگ دی جائے کہ ’ کیا ایوان کا مطلب پوری عمارت ہے؟‘ سپیکر افضل ساہی نے اپنی رولنگ محفوظ کرنے کا اعلان کیااور بجٹ کارروائی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تاہم اپوزیشن کے مختلف اراکین نے پوائنٹ آف آڈر پر بات کرنا چاہی۔ مجلس عمل کے ارشد بگو کی بات کے بعد پیپلز پارٹی کے ناظم علی شاہ کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن سپیکر نے اجازت نہ دی وہ کھڑے ہوکر بولتے رہے اپوزیشن کے اراکین نے شور مچانا شروع کر دیا۔ اسی دوران صوبائی وزیر مشتاق کیانی نے انہیں ’شٹ اپ‘ کہہ دیااس پر ہنگامہ آرائی میں اضافہ ہوگیا ۔ اپوزیشن کے تمام اراکین اسمبلی کھڑے ہوگئے انہوں نے ’گو سپیکر گو‘ ،’ ٹھاہ سپیکر ٹھاہ‘،اور’ فوجی گھوڑا نہیں چلے گا‘ کے نعرے لگانے اور ہوٹنگ شروع کر دی۔ پیپلز پارٹی کےرانا سمیع اللہ اور مسلم لیگ نواز کے شیخ اعجاز نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر نعرے لگواتے رہے، خواتین اراکین اسمبلی ہاتھ دکھا دکھا کر’شیم شیم‘ کہتی رہیں اور دیگر نعرے لگاتی رہیں۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے اسی شور کے دوران اپوزیشن کی تحاریک کو مسترد کرتے رہے اس شور میں انہوں نے ایک ایک کرکے سات اراکین پر موجودہ اجلاس میں شرکت پر پابندی لگانے کا اعلان کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی افضل ساہی نے جن اراکین کی اجلاس کارروائی میں شرکت پر پابندی لگائی ہے ان میں اپوزیشن کی دو خواتین اراکین اسمبلی فرزانہ راجہ اور عظمی بخاری کے علاوہ سمیع اللہ خان، پرویز رفیق، اشرف سوہنا، شیخ اعجاز اور اشتیاق مرزا شامل ہیں۔ کل جن دو اراکین کے خلاف کارروائی ہوئی تھی ان دونوں کا تعلق مسلم لیگ نواز سے ہے۔ آج تادیبی کارروائی کا نشانہ بننے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے شیخ اعجاز کے سوا باقی تمام پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپوزیشن کے تمام اراکین اسمبلی نے رانا آفتاب احمد خان کی قیادت میں باقی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر آکر احتجاجی مظاہرہ کیا اور سپیکر کے خلاف نعرے بازی کی۔ ادھر پنجاب اسمبلی میں اجلاس کی کارروائی جاری رہی حکومتی اراکین اپوزیشن کے خالی بنچوں پر آکر بیٹھ گئے انہوں نے سپیکر کی کارروائی کی حمائت کا اعلان کیا۔ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن کے اراکین کا رویہ افسوسناک ہے ایسی حرکتیں تو سکول کے بچے نہیں کرتے جو یہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن کے خلاف بدتمیزی کرنے پر کارروائی کی جائے ا ور وہ اپنے آپ کو ہیرو سمجھیں تو یہ مزید افسوس کی بات ہے انہوں نے سپیکر کو مخاطب کر کے کہا کہ ’آپ نے جو بھی کردار اداکیا ہےاس سلسلے میں ہمارا تعاون آپ کے ساتھ ہے۔‘ اجلاس شروع ہونے سے پہلے اپوزیشن کا مشترکہ پارلیمانی اجلاس اسمبلی کے کمیٹی روم میں ہوا جس کے بعد اپوزیشن کی قیادت کرنے والے رکن رانا آفتاب احمد خان نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اگر سپیکر نے یہ رولنگ دی کہ رانا ثناءاللہ اور رانا مشہود کے اسمبلی میں داخلے پر پابندی ہے تو تمام اپوزیشن اراکین کل (سنیچر) کو دونوں اراکین کو ساتھ لیکر اسمبلی عمارت میں آئیں گے۔ اپوزیشن کی قیادت کرنے والے رانا آفتاب احمد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ کہا کہ اپوزیشن نے جمعہ کی صبح حکومتی اراکین اسمبلی نجف سیال،علیم شاہ، فیاض الحسن چوہان کے خلاف ایوان میں غلیظ زبان استعمال کرنے اور خواتین کے بارے میں نازیبا الفاظ ادا کرنے پر کارروائی کے لیے ایک قرار دادا جمع کرادی ہے۔ پیپلز پارٹی کے راجہ شفقت عباسی نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب قومی مالیاتی ایوارڈ میں پنجاب کا حصہ برقرار رکھوانے میں ناکام ہوئے ہیں اور یہی نکتہ رانا ثناءاللہ نے اپنی تقریر میں اٹھایا تھا جس کی انہیں سزادینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||