پنجاب:اپوزیشن لیڈر کی معطلی و ہنگامہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کو شروع ہونے والا پنجاب اسمبلی کا اجلاس قائم مقام اپوزیشن لیڈر رانا ثناء اللہ سمیت دو ارکان کی معطلی کے باعث شدید ہنگامہ خیز ہو سکتا ہے۔ حزب اختلاف اس احتجاج کے لیے بدھ کو اپیل کی تھی۔ قائم مقام اپوزیشن لیڈر رانا ثناء اللہ سمیت اور دوسرے دو ارکان کے خلاف ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں ان پر نازیبا الفاظ استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ پنجاب اسمبلی میں اکثریت سے منظور کی جانے والی اس قرارداد کے تحت مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی رہنما رانا ثنا اللہ کو بجٹ اجلاس میں اگلے پندرہ روز تک شرکت سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ قرار داد صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے بجٹ تجاویز میں کٹوتی کی تحریکیں پیش ہونے کے دوران میں پیش کرنا چاہی جس پر اسپیکر نے ووٹنگ کرائی اور اکثریت نے اس قرارداد کو پیش کرنے کی اجازت دی۔ ایوان نے اکثریت رائے اس قرار داد کو منظور کیا جس میں رانا ثنا اللہ پر پابندی کا مطالبہ اس بنیاد پر لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ایوان میں گزشتہ روز غیر پارلیمانی اور قابل اعتراض الفاظ استعمال کیے اور عورتوں کے بارے میں ذومعنی جملے بولے۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں قومی مالیاتی ایوارڈ پر بحث کے دوران مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما رانا ثنا اللہ نے حکومت پر پنجاب کا مقدمہ صحیح معنوں میں پیش نہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جب اپنی تقریر کے دوران میں انہوں نے یہ الفاظ استعمال کیے کہ ان کا کوئی باپ نہیں صوبائی وزرا ان کی طرف لپکے اور دونوں طرف کے ارکان گتھم گتھا ہوگئے، انہوں نے گالیوں کا تبادلہ کیا اور ایک دوسرے کے گریبان پکڑ لیے اور کپڑے پھاڑ دیے۔ ایک رکن اسمبلی نے اپنا مائیک اکھاڑ کر اس سے رانا ثنا اللہ پر حملہ کرنا چاہا۔ بعد میں سپیکر کے کہنے پر رانا ثنااللہ نے حکومتی ارکان سے معذرت کرلی تھی۔ جمعرات کو رانا ثنااللہ کے خلاف جب قرارداد پیش ہوئی تو حزب اختلاف کے ارکان نے اس پر شدید احتجاج کیا اور پیپلزپارٹی کے نائب پارلیمانی قائد رانا آفتاب نے کہا کہ رانا ثنااللہ نے معذرت کرلی ہے اس لیے یہ قرارداد لانے کا کیا مطلب ہے۔ پیپلزپارٹی کے ناظم حسین شاہ نے کہا کہ اس قرارداد سے ایک غلط مثال قائم ہوگی۔ رانا ثنااللہ کو بھی آج بولنے کا موقع دیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان پر لگایا گیا الزام غلط ہے اور کل کی کارروائی منگوا کر اس کی تصدیق کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صرف وفاداریاں بدلنے والے ارکان کے بارے میں بات کی تھی اور عورتوں کے بارے میں کوئی ذومعنی الفاظ استعمال نہیں کیے تھے۔ رانا ثنااللہ نے آج کہا کہ اسمبلی کی کارروائی کے ریکارڈ سے اگر ان پر الزامات ثابت ہوجائیں تو انہیں معطل کرنے کی ضرورت نہیں وہ خود ایوان سے مستعفی ہوجائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||