BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 November, 2003, 02:04 GMT 07:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب کابینہ میں توسیع

نئی کابینہ میں پانچ خواتین بھی شامل کی گئی ہیں
نئی کابینہ میں پانچ خواتین بھی شامل کی گئی ہیں

پنجاب میں وزیر اعلی چودھری پرویز الہی کی طرف سے کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد وزراء کی تعداد صوبائی حکومت کےمحکموں سے تجاوز کر گئی ہے اور وزراء کے لیے محکموں کی تلاش جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے اتنی بڑی کابینہ بنا کر پنجاب کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے اوراس کے باوجود کےدو وزیروں کے لیے محکموں کی تلاش ابھی جاری ہے حکومت کی طرف سے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہو کہ وزراء کی مزید بھرتی نہیں ہوگی۔

وزیر اعلی نے سوموار کو تقریب حلف وفاداری میں اخبار نویسوں کی طرف سے اس ضمن میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ’ وہ اس بارے میں بعد میں فیصلہ کریں گے ۔‘

اب یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ انہوں نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ جو اراکین ابھی بھی وزارت ملنے کی امید میں ہیں انکی امیدیں نہ ٹوٹ جائیں یا پھر وہ واقعی اس بات کا فیصلہ نہیں کرپاۓ ہیں کہ اتنی ہی کابینہ کافی ہے ؟

بہرحال تینتالیس وزیروں پر مشتمل کابینہ کا جب بھی اجلاس ہوگا تو تعداد کے لحاظ سے پنجاب کابینہ کسی چھوٹے صوبے کی اسمبلی کا سا منظر پیش کر رہی ہوگی۔

سوموار کی صبح تک تو یہی خیال تھا کہ چودہ نئے وزیر بناۓ جائیں گےلیکن آخری وقت میں علیم خان کا نام وزیروں کی طویل فہرست میں شامل کر لیا گیا اور لاہور کے تقریباٌ تمام اخبارات میں چھپنے والی خبریں غلط ثابت ہوگئیں۔

سوموار کو حکومتی ذرائع کے حوالے سے چودہ نئے وزیروں کی تقرری کی خبریں شائع ہوئی تھیں تاہم اخبارات میں جن وزیروں کے نام شائع ہوۓ تھے ان میں سے صرف علیم خان کا نام شامل نہیں تھا ۔

علیم خان قتل کے مقدمہ کے نامزد ملزم ہیں اور ان کے خلاف لوگوں کی اراضی ہتھیانے کی بھی بے شمار شکایات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ لاہور کے نئے ہوائی اڈے کے نزدیک بننے والی ایک ایسی رہائشی کالونی کے منتظم ہیں جس میں فوج کے متعدد حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے ۔

یہ قتل بھی اسی رہائشی کالونی سے منسلک اراضی کے تنازعہ پر ہوا تھا۔

علیم خان اگرچہ جلدی میں کابینہ میں شامل تو ہو گئے ہیں لیکن ابھی انہیں کوئی محکمہ الاٹ نہیں ہوا ۔

یہ کابینہ اس لحاظ سے بھی انوکھی ہے کہ اس حکومت میں وزیروں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور انتظامی سیکرٹری ان کے مقابلے میں کم رہ گئے ہیں ۔حالانکہ ماضی میں مخلوط حکومتیں ہونے کے باوجود وزرا ء کی تعداد اتنی ہوتی تھی کہ اکثر ایک ایک وزیر کے ماتحت دو دو تین تین سیکرٹری رہا کرتے تھے ۔

اور اب صورتحال اس کے برعکس ہوگئی ہے اور دو دو یا تین تین وزیروں کے لیے ایک ایک صوبائی سیکرٹری رہ گیا ہے۔

صوبہ میں محکمہ کے صوبائی انچارج افسر کو سیکرٹری کہا جاتا ہے ۔جن کا انچارج چیف سیکرٹری ہوتاہے اس بات کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ چیف سیکرٹری کو تو تھوڑے محکمانہ افسروں کی ضرورت ہے جبکہ چیف منسٹر کو زیادہ انچارج وزیر چاہیے ۔

محکموں کی قلت کی وجہ سے کئی محکموں کے حصہ بخرے کر دئے گئے ہیں۔مثال کے طور پر محکمہ آبپاشی میں سے ہی ایک نیا محکمہ توانائی کا نکالا گیا ہے آبپاشی اب ایک وزیر اور توانائی دوسرے وزیر کو دیدی گئی ہے اب یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ صوبہ میں توانائی کی وزارت کیا کرے گی حالانکہ توانائی بنیادی طور وفاقی حکومت کا کام ہے ۔دوسری جانب محکمہ انہار یا آبپاشی محض ایک چیف انجینئر اور اس کے ماتحت عملہ پر مشتمل ہے ۔

ایک وزیر کو ایک ایسی وزارت دی گئی ہے جس کا کام محض وزیر اعلی کے احکامات پر عملدرآمد کی نگرانی کرناہے ۔

اسی طرح ایک وزیر ایسے بھی ہیں جن کے لیے شائد محکمے ہی ختم ہوگئے اس لیے انہیں فی الحال وزیر بے محکمہ قرار دیا گیا ہے ۔

ایک وزیر کو محکمہ زراعت کا ایک حصہ عنائت کیا گیا ہے جسے ایگریکلچرل مارکیٹنگ کہا جا رہا ہے یعنی اب وزیر زراعت تو کھیتوں کھلیانوں کی دیکھ بھال کریں گے اور دوسرے وزیر اجناس وغیرہ کی فروخت کی ذمہ داریاں نبھائیں گے ۔

اسی طرح تعلیم کاایک وزیر ہے اور خصوصی تعلیم کا دوسرا وزیر ہے ۔

ادھر عمرہ پر گئے حسن اختر موکل کو منیجمنٹ اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کا ایک ایسا محکمہ سونپا گیا ہے، جس کو لوگ تلاش کر رہےہیں کہ کونسا محکمہ ہے ؟ کب قائم ہوا؟ کب سے حکومت کا حصہ تھا اور اس کا کام کیا ہے؟۔

اس کابینہ کا ایک تاریخ ساز کام ایک ساتھ پانچ خواتین کو وزیر بنایا جانا ہے لیکن ایک خاتون بہبودآبادی کی وزیر ہے تو دوسری بہبود خواتین کی اور تیسری کو سماجی بہبود کا محکمہ دے کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ صوبہ کے بیشتر بہبودی کام اب صرف خواتین وزیر ہی کریں گی ۔

محکموں کے حصے بخرے کیے جانے اور نت نئی وزارتیں بنانے کے باوجود ابھی بھی دو وزیر محکمہ کے بغیر ہیں ۔

پاکستانی پنجاب کی تاریخ میں سب سے بڑی کابینہ اس سیاسی جماعت کی حکومت نے بنائی ہے جسے اس کے مطابق اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے ۔

اس بات کا فیصلہ بھی ذرا مشکل معلوم ہو رہا ہے کہ وزیر اعلی کو حکومت کے انتظامی امور چلانے کے لیے واقعی اتنے وزیروں کی ضرورت تھی یا انہیں کسی ایسے سیاسی دباؤ کا سامنا تھا جو وہ کسی کو بیان نہیں کر سکتے یا پھر انہوں نے بعض اراکین کو محض جھنڈے والی گاڑیاں دینے کے لیے یہ اضافہ کیا ہے ؟

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد